عالمی منڈی میں سونے کی چمک بڑھ گئی، قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

عالمی منڈی میں سونے کی چمک بڑھ گئی، قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور عالمی سطح پر غیر یقینی معاشی حالات کے باعث سرمایہ کاروں نے ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کا رخ کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جغرافیائی سیاسی تنازعات، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی معیشت سے متعلق خدشات نے سونے کی طلب میں واضح اضافہ کیا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت تقریباً 0.9 فیصد اضافے کے بعد 4,042.69 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی سونے کے اگست کے فیوچر معاہدے 4,047.40 ڈالر فی اونس پر طے پائے۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کار موجودہ غیر یقینی صورتحال میں اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اگرچہ سفارتی کوششوں کی خبریں سامنے آنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کچھ سست ہوئی، تاہم سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ برقرار رہا، جس کا براہِ راست فائدہ سونے کی عالمی طلب کو پہنچا۔ ایسے حالات میں سونا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں نے اس قیمتی دھات میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق توانائی کی بڑھتی قیمتیں، مہنگائی کے خدشات اور عالمی سیاسی کشیدگی ایسے عوامل ہیں جو سونے کی قیمتوں کو مسلسل سہارا فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو سونے کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح کو بھی چھو سکتی ہیں، جبکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں وقتی استحکام ضرور آیا ہے، لیکن صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی آئندہ دنوں میں عالمی منڈیوں کی سمت کا تعین کرے گی۔

ماہرین سرمایہ کاروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں عالمی سیاسی اور معاشی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی پیش رفت کے اثرات نہ صرف سونے بلکہ تیل، اسٹاک مارکیٹ اور دیگر عالمی مالیاتی شعبوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ موجودہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ غیر یقینی حالات میں سونا بدستور سرمایہ کاروں کے لیے سب سے قابلِ اعتماد اور محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا ہے۔

More News