عدالتی احاطوں میں موبائل سگنلز کا مسئلہ، پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے ہائیکورٹ اور سیشن کورٹس کے احاطوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سگنلز کی خرابی کے خلاف دائر درخواست پر صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی۔
درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے کی۔ دوران سماعت ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امین الرحمن یوسفزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سگنلز کا مسئلہ مسلسل درپیش ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے متعدد بار رابطہ کیا گیا اور ملاقاتیں بھی ہوئیں، تاہم اب تک صورتحال میں بہتری نہیں آسکی۔ ان کے مطابق سگنلز کی عدم دستیابی سے وکلا اور دیگر افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صدر پشاور بار ایسوسی ایشن قیصر زمان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وکلا نے موبائل سگنلز کے مسئلے پر ہڑتال نہیں کی۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ ریس کورس گارڈن میں بھی موبائل اور انٹرنیٹ سگنلز دستیاب نہیں۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی جلوس ہو یا کوئی دوسرا سیکیورٹی معاملہ، تو پورے شہر میں موبائل سگنلز کیوں بند کردیئے جاتے ہیں؟
عدالت نے صوبائی حکومت سے معاملے پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی۔ عدالت کی جانب سے طلب کردہ رپورٹ میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس میں تعطل کی وجوہات اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔








