عدالت کا ایک دن کا خرچہ 12 کروڑ روپے ہے، بائیکاٹ سے عوام کے پیسے ضائع ہوتے ہیں: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
پشاور: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا ہے کہ عدالتوں کا ایک دن کا خرچہ تقریباً 12 کروڑ روپے ہے، اس لیے عدالتی کارروائی کے ایک دن کے بائیکاٹ سے عوام کے اتنے ہی پیسے ضائع ہو جاتے ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے عدالتی نظام میں ہونے والی اصلاحات اور کارکردگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ مردان میں گواہوں کے عدالتوں میں پیش ہونے کی شرح 96 فیصد رہی، جو عدالتی کارروائی کو مؤثر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں میں ڈیجیٹل ریکارڈ مینجمنٹ کا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، جس سے مقدمات کے ریکارڈ کو محفوظ رکھنے اور عدالتی امور کو مزید منظم بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے ہیومین رائٹس سیل کو مجموعی طور پر ایک ہزار 79 درخواستیں موصول ہوئیں، جن پر کارروائی کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے پشاور، ایبٹ آباد، بنوں اور سوات میں سات ڈبل شفٹ عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ ان عدالتوں کا مقصد مقدمات کی تعداد کم کرنے اور زیرِ التوا کیسز کو جلد نمٹانے کے لیے عدالتی اوقات کار میں اضافہ کرنا ہے۔
جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کے مطابق عدالتوں کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں بجٹ کی تخصیص بھی بڑھائی گئی ہے۔ عدالتوں کے لیے مختص بجٹ کو دو ارب روپے سے بڑھا کر چھ ارب روپے کر دیا گیا ہے، جس سے عدالتی نظام میں مزید سہولیات اور اصلاحات لانے میں مدد ملے گی۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ عدالتیں غریب عوام کے ٹیکسوں سے چلتی ہیں، اس لیے عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف فراہم کرنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عدالتی بائیکاٹ کے حوالے سے کہا کہ ایک دن کی عدالتی سرگرمی متاثر ہونے سے نہ صرف مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ قومی خزانے اور عوام کے وسائل بھی ضائع ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ عدالتی سال کے دوران پشاور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں تقریباً 38 ہزار مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ ہزاروں زیرِ التوا مقدمات بھی ختم کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی نظام میں بہتری اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔








