عظمیٰ خان کی توہین عدالت درخواست 16 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر

عظمیٰ خان کی توہین عدالت درخواست 16 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست کو 16 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے۔ عدالت نے درخواست کو عمران خان سے متعلق مرکزی مقدمے کے ساتھ ہی سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔ درخواست میں 18 اگست کے عدالتی حکم پر مبینہ طور پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔

عظمیٰ خان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا اسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے عمران خان کے علاج اور انہیں اسپتال منتقل کرنے سے متعلق دیے گئے احکامات پر عملدرآمد ہونا ضروری تھا۔ عظمیٰ خان کا مؤقف ہے کہ اگر عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا گیا تو اس کے ذمہ دار حکام کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے درخواست کی سماعت مقرر کرنے کے حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے بتایا کہ عدالت میں اس وقت توہین عدالت کی 94 درخواستیں زیر التوا ہیں۔ عدالت کے مطابق پالیسی کے تحت عظمیٰ خان کی درخواست کو فوری طور پر جلد سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جاسکتا تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ عمران خان سے متعلق مرکزی کیس کی سماعت بھی 16 ستمبر تک ملتوی کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے عظمیٰ خان کی توہین عدالت کی درخواست کو بھی مرکزی مقدمے کے ساتھ 16 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب عمران خان سے ان کی بہن کی اڈیالہ جیل میں دو ہفتوں کے دوران دوسری ملاقات بھی ہوئی ہے۔ ملاقات کے حوالے سے بھی عمران خان کی صحت، علاج اور اسپتال منتقلی کے معاملات زیر بحث رہے ہیں۔

عظمیٰ خان کی درخواست بنیادی طور پر 18 اگست کے عدالتی حکم سے متعلق ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی کے علاج اور انہیں اسپتال منتقل کرنے سے متعلق امور پر غور کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اب اس معاملے پر 16 ستمبر کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی، جہاں عدالت عظمیٰ مرکزی کیس کے ساتھ توہین عدالت کی درخواست پر بھی فریقین کے مؤقف سن سکتی ہے۔ سماعت کے دوران عدالتی حکم پر عملدرآمد اور عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق مؤقف کا جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔

More News