عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ہوگا، طارق فضل چوہدری

عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ہوگا، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دائر کی گئی نظرثانی درخواست کا مقصد عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ اس کی مزید وضاحت طلب کرنا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت عدالتی فیصلے اور اس میں دی گئی ہدایات کے مطابق آئندہ اقدامات کرے گی۔

طارق فضل چوہدری نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسیری کے دوران علاج اور ہسپتال منتقلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جن ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا، وہ سرکاری ہسپتال تھے۔ ان کے مطابق نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عمران خان کے علاج کے حوالے سے موجودہ قوانین اور طبی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اگر مروجہ قوانین کے تحت ان کا علاج سرکاری ہسپتال میں ممکن نہیں تو حکومت انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال یا ضرورت پڑنے کی صورت میں بیرون ملک بھی علاج کے لیے بھیج سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ عمران خان کو دستیاب قانونی اور طبی سہولیات کے مطابق مناسب علاج فراہم کیا جائے۔ اس حوالے سے عدالتی فیصلے، موجودہ قوانین اور طبی ماہرین کی رائے کو مدنظر رکھا جائے گا۔

عمران خان کی صحت اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا معاملہ حالیہ دنوں میں سیاسی اور قانونی طور پر اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے بھی ان کے علاج اور طبی سہولیات کے حوالے سے مختلف مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام اقدامات قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر کے تازہ بیان کے بعد یہ واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگا، تاہم عمران خان کو کس ہسپتال میں منتقل کیا جائے گا اور علاج کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جائیں گے، اس حوالے سے حتمی فیصلہ متعلقہ حکام اور طبی ماہرین کی سفارشات کی روشنی میں کیا جائے گا۔

More News