عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت کا ردعمل

عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت کا ردعمل

اسلام آباد: حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کا قانونی، طبی، انتظامی اور سکیورٹی پہلوؤں سے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق عمران خان سمیت ہر قیدی کو ضروری طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹرز سے علاج کی سہولت حاصل ہے، جبکہ ریاست قیدیوں کی صحت کے تحفظ اور مناسب طبی نگہداشت کی ذمہ دار ہے۔

حکومت نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں، اس لیے کسی قیدی کو حاصل طبی سہولت اسی نوعیت کی طبی حالت رکھنے والے دوسرے قیدی کے لیے بھی مقررہ معیار کے مطابق دستیاب ہونی چاہیے۔

حکومتی مؤقف میں مزید کہا گیا کہ معاملہ صرف علاج کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ کسی مخصوص شخصیت کے لیے خصوصی انتظامات کا سوال بھی ہے۔ اس میں نجی اسپتال کا انتخاب، وہاں قیام کی مدت اور حراست سے متعلق انتظامات شامل ہیں۔

حکومت کے مطابق اسپتال منتقلی اور علاج کی مدت کا فیصلہ آزادانہ طبی رائے، جیل قوانین اور انتظامی تقاضوں کے تحت ہونا چاہیے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیاسی ترجیحات طبی تشخیص کا متبادل نہیں ہوسکتیں۔

More News