عمران خان کے علاج کا عدالتی حکم: حکومت کی سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل کا اعلان

عمران خان کے علاج کا عدالتی حکم: حکومت کی سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل کا اعلان

وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرے گی۔

وزیر قانون کے مطابق حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے اور حکم نامے کے تمام نکات کا تفصیلی جائزہ لے لیا ہے اور اس حوالے سے قانونی مشاورت بھی مکمل کرلی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اسی عدالت سے رجوع کرے گی۔

اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی فیصلے کے حوالے سے اہم قانونی اور انتظامی سوال بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی جیلوں میں ہزاروں قیدی مختلف بیماریوں اور صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ کیا سپریم کورٹ کا مذکورہ حکم دیگر تمام بیمار قیدیوں پر بھی لاگو ہوگا۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ موجودہ قوانین اور جیل قواعد کے تحت سزا یافتہ قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ضرورت پڑنے پر انہیں سرکاری اسپتالوں میں منتقل کرکے علاج بھی کرایا جاتا ہے۔

ان کے مطابق عمران خان کے معاملے میں سامنے آنے والی عدالتی ہدایت کے قانونی اور انتظامی اثرات کا جائزہ لینے کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان کے علاج اور طبی سہولیات کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی صحت کے مطابق مناسب اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ جیل میں موجود تمام قیدیوں کے لیے طبی سہولیات مقررہ قوانین اور طریقہ کار کے تحت دستیاب ہیں۔ حکومت اب سپریم کورٹ سے اس معاملے پر مزید قانونی وضاحت چاہتی ہے تاکہ عدالتی حکم کے دائرہ کار کو واضح کیا جاسکے۔

نظرثانی درخواست دائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لے گی۔ عدالت کے آئندہ فیصلے سے عمران خان کے علاج اور اسپتال منتقلی کے ساتھ ساتھ جیل میں موجود دیگر بیمار قیدیوں کے حوالے سے بھی قانونی صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

More News