غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 24 گھنٹوں میں 3 فلسطینی شہید
غزہ: اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں مزید فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق حالیہ حملوں نے پہلے سے سنگین انسانی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
غزہ کے محکمۂ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 3 فلسطینی شہید جبکہ 35 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے باعث شہری آبادی مسلسل متاثر ہو رہی ہے اور طبی سہولیات پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہسپتالوں کو ادویات، طبی سامان اور ایندھن کی کمی سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث زخمیوں اور مریضوں کو بروقت علاج فراہم کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔
غزہ حکام کے مطابق 11 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 936 فلسطینی شہید جبکہ 2,903 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد حالات میں بہتری کی امید کی جا رہی تھی، تاہم مختلف علاقوں میں جاری حملوں اور جھڑپوں کے باعث جانی نقصان کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔
محکمۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے سے اب تک 781 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ امدادی ٹیمیں اور ریسکیو کارکن مختلف متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم کئی مقامات پر ملبہ ہٹانے کے کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی امدادی اداروں نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ اور فوری انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جاری تنازع نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
غزہ میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور مقامی آبادی کو مسلسل غیر یقینی حالات، نقل مکانی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔








