مانسہرہ۔چلاس موٹروے کو براہ راست چین سے منسلک کرنے کا فیصلہ

مانسہرہ۔چلاس موٹروے کو براہ راست چین سے منسلک کرنے کا فیصلہ، علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مانسہرہ۔چلاس مجوزہ موٹروے کو براہ راست چین سے منسلک کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان زمینی رابطوں کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ علاقائی تجارت، سیاحت اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

اس منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں موٹروے منصوبے کے مختلف پہلوؤں، فنی امور اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا کو منصوبے کی اہمیت اور مستقبل کے فوائد سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ نئی موٹروے مانسہرہ، کاغان، ناران، جھالکنڈ اور چلاس کو آپس میں ملائے گی۔ منصوبے کو اس انداز میں تیار کیا جا رہا ہے کہ اسے براہ راست چین کے ساتھ بھی منسلک کیا جا سکے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سفری روابط مزید آسان ہو جائیں گے۔

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ منصوبے کو دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں مانسہرہ سے بابوسر ٹاپ تک موٹروے تعمیر کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں اس موٹروے کو چلاس تک توسیع دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد شاہراہ قراقرم کے متبادل کے طور پر ایک جدید، محفوظ اور تیز رفتار راستہ دستیاب ہوگا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ موٹروے کی مجموعی لمبائی 172 کلومیٹر ہوگی جبکہ منصوبے میں تقریباً ساڑھے 13 کلومیٹر طویل بابوسر ٹنل بھی شامل ہوگی، جسے پاکستان کی سب سے طویل سرنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس موٹروے کی تعمیر سے شاہراہ قراقرم کا سفر تقریباً 120 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا، جس سے وقت اور ایندھن دونوں کی نمایاں بچت ممکن ہوگی۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ یہ موٹروے مغربی چین کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور بحیرہ عرب تک مختصر، محفوظ اور مؤثر زمینی رسائی فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے گوادر بندرگاہ کی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور خطے میں اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر موٹروے چار لین پر مشتمل ہوگی، تاہم مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے چھ لین تک توسیع دینے کی گنجائش رکھی جائے گی۔ ہر 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر جدید ریسٹ ایریاز قائم کیے جائیں گے جبکہ مال بردار گاڑیوں کے لیے خصوصی ٹرکنگ ٹرمینلز بھی تعمیر کیے جائیں گے۔

More News