فارن میڈیکل گریجویٹس کا پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشن کے خلاف احتجاج، قانونی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ
پشاور: بیرون ملک سے طبی تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی میڈیکل گریجویٹس نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے 31 جولائی 2026 کے نوٹیفکیشن کے خلاف حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے اور قانونی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
پشاور پریس کلب میں ڈاکٹر وقاص اکبر، ڈاکٹر نور الرحمان، ڈاکٹر حنا اور ڈاکٹر نواد کی قیادت میں فارن میڈیکل گریجویٹس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں پاکستانی طلبہ نے ان غیر ملکی جامعات میں اس وقت داخلہ لیا جب وہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تسلیم شدہ فہرست میں شامل تھیں۔ طلبہ اور ان کے والدین نے اس وقت نافذ قواعد و ضوابط پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کی اور کئی سال طبی تعلیم کے حصول میں صرف کیے۔
متاثرہ گریجویٹس کے مطابق بعد ازاں 8 ستمبر 2025 اور 31 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز کے ذریعے نئی شرائط عائد کی گئیں، جن کے اثرات پہلے سے زیر تعلیم اور فارغ التحصیل طلبہ تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی شرائط سے ان کا تعلیمی، قانونی اور پیشہ ورانہ مستقبل شدید متاثر ہورہا ہے۔
ڈاکٹر وقاص اکبر نے مطالبہ کیا کہ پی ایم ڈی سی 31 جولائی کا نوٹیفکیشن واپس لے اور پشاور ہائیکورٹ کے 2 اپریل 2026 کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارغ التحصیل فارن میڈیکل گریجویٹس کو انصاف اور ان کے قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔
متاثرہ ڈاکٹروں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے کے حل کے لیے پشاور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا گیا تھا اور عدالت نے متاثرہ طلبہ کے حق میں فیصلہ صادر کیا۔ ان کے مطابق نئی شرائط کا اطلاق ان طلبہ پر نہیں ہونا چاہیے جنہوں نے سابقہ قواعد کے تحت اپنی تعلیم شروع کی یا مکمل کی۔
فارن میڈیکل گریجویٹس نے سوال اٹھایا کہ اگر انہی جامعات کے فارغ التحصیل ڈاکٹر مختلف ممالک میں متعلقہ امتحانات اور لائسنسنگ کے مراحل میں شرکت کے اہل قرار دیے جاتے ہیں تو پاکستان میں انہیں قومی رجسٹریشن امتحان میں شرکت سے کیوں روکا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 8 ستمبر 2025 اور 31 جولائی 2026 کے نوٹیفکیشنز کا اطلاق پہلے سے داخلہ لینے والے اور فارغ التحصیل گریجویٹس پر فوری طور پر ختم کیا جائے، جبکہ نئی پالیسی اور شرائط کا اطلاق مستقبل میں داخلہ لینے والے طلبہ پر کیا جائے۔
متاثرہ ڈاکٹروں نے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، پارلیمنٹ، پی ایم ڈی سی اور انسانی حقوق کے متعلقہ اداروں سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی غیر قانونی رعایت یا معیار پر سمجھوتے کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں قانون کے مطابق اپنی اہلیت ثابت کرنے کا موقع دیا جائے اور نئی شرائط کا اطلاق ماضی میں نافذ قواعد کے تحت تعلیم شروع کرنے والے طلبہ پر نہ کیا جائے۔
فارن میڈیکل گریجویٹس کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف چند طلبہ یا ڈاکٹروں کا نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے مستقبل، برسوں کی محنت اور قانونی حقوق سے جڑا ہوا ہے، اس لیے حکومت فوری مداخلت کرکے مسئلے کا منصفانہ اور مستقل حل نکالے۔





