قائمہ کمیٹی کی ڈاکٹر عائشہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں ڈاکٹر شہزاد علی خان کی برطرفی پر عملدرآمد کی ہدایت

قائمہ کمیٹی کی ڈاکٹر عائشہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں ڈاکٹر شہزاد علی خان کی برطرفی پر عملدرآمد کی ہدایت

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے صنفی ہراسانی کے معاملے میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان کی برطرفی کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

نوشین افتخار کی زیرصدارت قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں ڈاکٹر عائشہ نے کمیٹی کو اپنے کیس سے متعلق بریفنگ دی۔ ڈاکٹر عائشہ نے الزام عائد کیا کہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے انہیں ہراساں کیا، جبکہ ان کے مطابق ڈاکٹر شہزاد اور ان کی اہلیہ کی جانب سے ان کے خلاف متعدد مقدمات بھی قائم کیے گئے۔

ڈاکٹر عائشہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ان مقدمات کی پیروی کے دوران وہ وکلا کی فیس کی مد میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کرچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین نے بھی ان کے حق میں فیصلہ دیا، جبکہ صدر مملکت نے ڈاکٹر شہزاد علی خان کی اپیل مسترد کردی تھی۔

ڈاکٹر عائشہ کے مطابق متعلقہ فیصلوں کے باوجود ڈاکٹر شہزاد علی خان اپنا عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے قائمہ کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ ان کے معاملے میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے ارکان نے ڈاکٹر عائشہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور ڈاکٹر شہزاد علی خان کی برطرفی سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی سفارش کی۔

کمیٹی نے صنفی ہراسانی کی بنیاد پر ڈاکٹر شہزاد علی خان کی برطرفی کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو معاملے کو قانون اور دستیاب فیصلوں کے مطابق آگے بڑھانے پر زور دیا۔

قائمہ کمیٹی نے وزارت انسانی حقوق کو بھی خواتین کو جنسی اور صنفی ہراسانی کے واقعات سے تحفظ دینے کیلئے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ہراسانی سے محفوظ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے اور ایسے معاملات میں ادارہ جاتی سطح پر مؤثر کارروائی ہونی چاہیے۔

More News