لاہور میں ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ، 170 سے زائد صارفین کا ڈیٹا لیک
لاہور میں ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ کی بڑی واردات کا انکشاف ہوا ہے، جہاں نجی بینک کے 170 سے زائد صارفین کا حساس ڈیٹا مبینہ طور پر لیک ہونے کے بعد انہیں ہدف بنایا گیا۔ ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے تین رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا ہے، جس میں نجی بینک کا ایک افسر اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان نے بینک کے اندرونی نظام سے صارفین کا ڈیٹا حاصل کیا اور ان افراد کو نشانہ بنایا جن کے اکاؤنٹس میں بھاری رقوم موجود تھیں۔ ملزمان نے مبینہ طور پر صارفین کے کوائف اور پتے تبدیل کرکے ان کے نام پر نئے اے ٹی ایم کارڈز جاری کروائے۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق نئے اے ٹی ایم کارڈز متعلقہ صارفین کے بجائے ملزمان خود وصول کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے مبینہ طور پر صارفین کے گھروں کے باہر ریکی کی جاتی اور ڈلیوری کے وقت موقع کا فائدہ اٹھا کر کارڈز حاصل کیے جاتے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے اس طریقہ کار کے ذریعے کم از کم پانچ افراد کے اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے نکلوائے۔ واقعے کے سامنے آنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے کہ بینک کا حساس ڈیٹا کس طرح غیر متعلقہ افراد تک پہنچا۔ تفتیش میں مزید افراد کے ملوث ہونے اور دیگر متاثرہ صارفین کی معلومات سامنے آنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ڈیجیٹل بینکنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ صارفین کے مالی اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بینکنگ اداروں کو اندرونی نظام تک رسائی، صارفین کے کوائف اور اے ٹی ایم کارڈز کی ترسیل کے نظام میں سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
ایف آئی اے نے کیس کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر فراڈ کے دائرہ کار اور دیگر ممکنہ متاثرین کا تعین کیا جارہا ہے۔





