لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم 30 سے زائد افغان طلبہ کی جانب سے بے دخلی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران جاری کیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے درخواستوں کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض افغان طلبہ کے پاس پاکستان میں قیام اور تعلیم کے لیے مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ وکیل نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ اصول رائج ہے کہ درست ویزے کے بغیر کسی شخص کو ملک میں قیام کی اجازت نہیں دی جاتی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر طلبہ کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا گیا تھا تو انہیں تعلیمی ویزے کیسے جاری کیے گئے؟ جسٹس خالد اسحاق نے سوال اٹھایا کہ چار سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد طلبہ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا، جبکہ کسی بھی اقدام سے قبل انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کے وکیل نے معاملے کو ریاستی سلامتی سے متعلق قرار دیتے ہوئے امریکا میں ویزا قوانین کی مثال دی، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ افغان طلبہ کو اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس بھیجا جا سکتا ہے اور اس معاملے میں ریاستی سلامتی کا کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے واضح ہدایت جاری کی کہ پنجاب کا کوئی بھی میڈیکل کالج افغان طلبہ کو بے دخل نہ کرے اور نہ ہی ان کے امتحانی پرچے منسوخ کیے جائیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ایم اینڈ ڈی سی نے ایک روز قبل واضح کیا تھا کہ پاکستان میں میڈیکل تعلیم کے حصول پر قومیت کی بنیاد پر کوئی پابندی نہیں۔ کونسل کے مطابق افغان طلبہ کا جاری جائزہ کسی مخصوص قومیت کے خلاف امتیازی کارروائی نہیں بلکہ قواعد، دستاویزات اور امیگریشن تقاضوں کی جانچ کا عمل ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق پاکستان میں 200 سے زائد افغان طلبہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تاہم ان میں سے صرف 22 طلبہ اس وقت کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ کونسل نے یہ بھی واضح کیا کہ میڈیکل ڈگری مکمل کرنا خود بخود پاکستان میں ملازمت یا طبی پریکٹس کے لیے قیام کا حق نہیں دیتا۔
کونسل کے مطابق پاکستان میں طبی پریکٹس کے خواہش مند غیر








