لڑائی اور بند سرحد کے بیچ زندگی کی جیت: جمرود میں افغان خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش

جنگ اور بند سرحد کے بیچ افغان خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش، زندگی کی علامت

پشاور : جنیدطورو

ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں گزشتہ کئی دنوں سے درجنوں افغان مہاجر خاندان غیر یقینی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور شدید جھڑپوں کی وجہ سے طورخم سرحد بند ہے، جس کے سبب اپنے وطن واپس جانے والے افغان شہری راستے میں رک گئے ہیں۔

ان بے سہارا خاندانوں کے بیچ ایک ننھی جان نے روشنی پھیلائی ہے۔ جمرود بائی پاس کے قریب، کھلے آسمان تلے، سامان سے بھرے ٹرکوں اور عارضی ٹھکانوں کے درمیان ایک افغان خاتون نے بیٹے کو جنم دیا۔ یہ خاتون اپنے خاندان کے ساتھ وطن واپس جا رہی تھیں، مگر سرحد بند ہونے کے باعث دیگر مہاجرین کے ساتھ جمرود میں رک گئیں۔

زچگی کے دوران نہ مناسب رہائش تھی، نہ طبی سہولیات اور نہ ہی بنیادی ضروریات، تاہم مقامی سماجی کارکن اسلام بادشاہ اور دیگر رضاکار فوری طور پر مدد کے لیے آگے بڑھے۔ دستیاب وسائل کے مطابق ماں اور نومولود کے لیے ضروری سہولیات فراہم کی گئیں اور محفوظ پیدائش کو یقینی بنایا گیا۔

نومولود کی پیدائش کے بعد مقامی افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آس پاس کے علاقوں سے لوگ آ کر خاندان کو مبارکباد دے رہے ہیں اور بچوں کے لیے کپڑے، خوراک اور دیگر ضروری سامان تحفے کے طور پر دے رہے ہیں۔ نومولود کا نام مقامی رضاکاروں نے “خیبر” رکھا ہے، جو اس سرزمین کی علامت ہے جہاں اس نے دنیا میں آنکھ کھولی۔

نومولود کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان واپس جانا چاہتی تھیں، مگر حالات نے انہیں راستے میں روک دیا۔ گزشتہ کئی دنوں سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے کی وجہ سے خواتین، بچوں اور بزرگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسلام بادشاہ مقامی لوگوں کے تعاون سے روزانہ پھنسے ہوئے افغان خاندانوں کے لیے افطاری اور سحری کا انتظام کر رہے ہیں تاکہ رمضان کے اس مقدس مہینے میں کوئی بھوک کا شکار نہ ہو۔ مقامی افراد کی مدد اور یکجہتی نے متاثرہ خاندانوں کے لیے امید اور سہارا فراہم کیا ہے، اور “خیبر” کی پیدائش نے انہی مشکل حالات میں زندگی کی نئی روشنی پیدا کر دی ہے۔

More News