ملک میں گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کی تعداد میں اضافہ، لائیو اسٹاک شعبے کی نمو 3.8 فیصد ریکارڈ
اسلام آباد: قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں، جن کے مطابق ملک میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں اور دیگر مویشیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے دوران لائیو اسٹاک کا شعبہ مجموعی طور پر 3.8 فیصد کی شرح سے ترقی کرتا رہا، جو زرعی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی تعداد بڑھ کر 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.9 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح خچروں کی تعداد میں 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار تک پہنچ گئی۔ گھوڑوں کی تعداد بھی 0.8 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 86 ہزار ہو گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق ملک میں بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں سالانہ بنیاد پر 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ گائے کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.8 فیصد زیادہ ہے۔
بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ اس شعبے میں 2.7 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد اضافے کے بعد 3 کروڑ 35 لاکھ سے زیادہ ہو گئی۔ اونٹوں کی تعداد میں بھی 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق لائیو اسٹاک پاکستان کی زرعی معیشت کا ایک اہم ستون ہے جو دیہی آبادی کے لیے روزگار، خوراک اور آمدنی کا بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مویشیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ اس شعبے کی اہمیت اور اس میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
اقتصادی سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران ماہی گیری کے شعبے نے 1.7 فیصد نمو حاصل کی، جو غذائی پیداوار اور برآمدات کے لحاظ سے ایک مثبت اشارہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی اور بہتر پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا گیا تو یہ شعبے ملکی معیشت میں مزید اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔








