محکمہ صحت کی بھرتیاں: پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو حتمی فیصلے سے روک دیا
پشاور(نیوز ڈیسک ) پشاور ہائیکورٹ نے محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بھرتیوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو بھرتیوں کے عمل پر حتمی فیصلہ کرنے سے روک دیا ہے۔
دو رکنی بینچ، جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ خان نے درخواست کی سماعت کی، جس میں میڈیکل آفیسرز، ڈینٹل سرجنز اور نرسز کی فکسڈ پے پر بھرتیوں کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل منظور بشیر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسکرونٹی اور سلیکشن کمیٹیوں کی تشکیل قواعد و ضوابط کے خلاف کی گئی، جبکہ غیر متعلقہ افسران کو کمیٹیوں میں شامل کرکے میرٹ اور شفافیت کو نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ اشتہار میں مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والے امیدواروں کو بھی منتخب کیا گیا، جس سے بھرتیوں کے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
ابتدائی دلائل سننے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت، سیکریٹری صحت اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک بھرتیوں کے عمل پر کوئی بھی حتمی فیصلہ نہ کیا جائے۔








