ملک میں مہنگائی کا سلسلہ جاری، ہفتہ وار شرح میں 0.65 فیصد اضافہ
ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 11.85 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باعث عوام کو روزمرہ ضروریات زندگی پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اشیائے خورونوش، گھریلو استعمال کی مختلف مصنوعات اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات براہ راست عام شہریوں کے بجٹ پر پڑتے ہیں۔
ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.65 فیصد اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختصر مدت کے دوران قیمتوں میں مجموعی طور پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 11.85 فیصد تک پہنچنے کا مطلب ہے کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مجموعی طور پر نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مہنگائی میں اضافے سے خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تنخواہ دار افراد، مزدوروں اور محدود آمدنی پر انحصار کرنے والے خاندانوں کو خوراک، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے بجٹ میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، عوام کی قوت خرید اور آمدنی میں اضافے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ قیمتوں میں استحکام کے لیے مؤثر اقدامات، منڈیوں کی نگرانی اور اشیائے خورونوش کی مناسب دستیابی اہم سمجھی جاتی ہے۔
حکومت کے لیے مہنگائی پر قابو پانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ایک اہم معاشی چیلنج ہے۔ تاہم، مہنگائی کی تازہ شرح میں اضافے کی وجوہات اور مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی مکمل تفصیلات کے لیے متعلقہ اعداد و شمار کا جائزہ ضروری ہے۔








