مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے پر بنگلہ دیش کا بھی غور، وزیر خارجہ کا اہم بیان
ڈھاکا: بنگلہ دیش نے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکان پر مثبت ردعمل کا اظہار کردیا ہے۔
پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے بنگلہ دیشی وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش مکہ معاہدے کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے، اگر ملک کو اس معاہدے میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی گئی تو اس پر غور کیا جائے گا۔
خلیل الرحمان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے کو وسعت دینا عالمی مسلم برادری کے دفاع کے لیے ایک اہم اقدام ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ مسلم ممالک کا داخلی معاملہ ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی تشویش کی کوئی گنجائش نہیں۔
مکہ معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مکہ دفاعی معاہدے کے بانی ممالک ہیں، جبکہ دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی اس معاہدے میں شمولیت کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔
معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر ہونے والا حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مصر سمیت کئی ممالک کی دلچسپی
مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے لیے اب تک کئی ممالک اپنی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، جن میں مصر بھی شامل ہے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے بھی ممکنہ شمولیت پر غور کی آمادگی کا اظہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت جاری ہے۔








