میر رضا قتل کیس، وزیر داخلہ سندھ جوڈیشل کمیشن میں طلب

میر رضا قتل کیس، وزیر داخلہ سندھ جوڈیشل کمیشن میں طلب

کراچی: میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کو 10 ستمبر کو طلب کرلیا۔

کراچی میں نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کی پانچویں سماعت ہوئی، جس میں کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید طارق نے کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر سمیعہ سید طارق نے کمیشن کو میر رضا علی کے پوسٹ مارٹم سے متعلق مختلف امور سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور اس دوران اختیار کیے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلات بیان کیں۔

کراچی پولیس سرجن نے کمیشن کو نوجوان کاروباری شخصیت کا پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) ڈاکٹر اسامہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے متعلق بھی آگاہ کیا۔

جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے دوران میر رضا علی کے قتل سے متعلق طبی شواہد، پوسٹ مارٹم کے عمل اور متعلقہ حکام کے کردار پر بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ کمیشن مختلف متعلقہ شخصیات اور حکام کے بیانات ریکارڈ کرکے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔

میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کا مقصد واقعے سے متعلق حقائق اور شواہد کا جائزہ لینا اور معاملے کی مختلف جہتوں کو سامنے لانا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ سرکاری افسران، پولیس حکام اور دیگر افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

اب جوڈیشل کمیشن نے سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کو 10 ستمبر کو طلب کیا ہے۔ ان کی طلبی کے بعد کمیشن کی آئندہ سماعت میں کیس سے متعلق مزید اہم معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

کمیشن کی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے بیانات اور شواہد کی روشنی میں میر رضا علی قتل کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ جاری ہے۔ تاہم کیس سے متعلق حتمی نتائج کمیشن کی مکمل کارروائی اور تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

میر رضا علی کے قتل کے معاملے نے کراچی میں خاصی توجہ حاصل کی ہے، جبکہ جوڈیشل کمیشن کی جانب سے کیس کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کے باعث آئندہ سماعتوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

More News