میپکو ٹیکس معاملہ، ایف بی آر کو جبری کارروائی سے روک دیا گیا
لاہور ہائیکورٹ نے میپکو کے 4 ارب 53 کروڑ 59 لاکھ 73 ہزار 266 روپے کے ٹیکس عدم ادائیگی کے معاملے پر ایف بی آر کو میپکو کے خلاف جبری کارروائی سے روک دیا۔
جسٹس جواد حسن اور جسٹس عابد حسین چٹھہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے میپکو کی درخواست پر سماعت کی۔ میپکو نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 140(1) کے تحت ایف بی آر کی جانب سے 5 اگست اور 7 ستمبر کو جاری کیے گئے احکامات کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
درخواست گزار کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ میپکو کا ٹیکس تنازع متبادل تنازعات کے حل کے لیے قائم اے ڈی آر کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا تھا، تاہم بنیادی تنازع حتمی طور پر حل نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود ایف بی آر کی جانب سے میپکو کو اربوں روپے کے ٹیکس کی ادائیگی کے نوٹسز جاری کیے گئے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کے ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 134-A میں مخصوص قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ عدالت کے مطابق اگر متعلقہ کمیٹی مقررہ مدت میں تنازع حل نہ کرے تو قانون میں اپیل کے لیے بھی فورم موجود ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کو میپکو کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی سے روک دیا اور وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب اور پیراوائز کمنٹس طلب کر لیے۔








