پختونخوا میں گورنر راج کیلئے مشاورت، فیصل کنڈی کے اہم دعوے
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے معاملے پر مشاورت ہوئی ہے اور آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق گورنر راج ماضی میں بھی نافذ ہو چکا ہے اور اسے غیر آئینی اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کی کوئی مؤثر تیاری نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ بعض رہنما گرفتاریوں کی باتیں کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر احتجاج سے راہِ فرار چاہتے ہیں۔
گورنر نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی، کرپشن اور گورننس کے مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے صوبے کے حالات پر توجہ دینی چاہیے۔
پولیس ایکٹ 2026 کے مجوزہ مسودے پر فیصل کنڈی نے کہا کہ پولیس کو سیاسی فورس نہیں بننے دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ ترامیم سے پولیس کے انتظامی معاملات اور اعلیٰ افسران کی تعیناتیوں میں صوبائی حکومت کے اختیارات بڑھ سکتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ اور مراعات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ایکٹ منظوری کے لیے گورنر کے پاس آیا تو اس کا آئینی و قانونی جائزہ لیا جائے گا۔ پولیس کو سیاسی فورس نہ بنانے پر زور








