نئی ایل پی جی پالیسی متعارف کرانے کا اعلان، فی کلو قیمت میں 200 روپے سے زائد اضافے کا خدشہ

نئی ایل پی جی پالیسی متعارف کرانے کا اعلان، فی کلو قیمت میں 200 روپے سے زائد اضافے کا خدشہ

حکومت نے ملک میں ایل پی جی کی مصنوعی قلت، بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے نئی ایل پی جی پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کردیا، تاہم نئی پالیسی کے تحت فی کلو قیمت میں 200 روپے سے زائد اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد مارکیٹ میں مسابقت پیدا کرنا، من مانے نرخوں کا خاتمہ اور صارفین کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ کوٹا سسٹم ختم کرکے مسابقتی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ چار بڑے سرکاری ادارے حکومت سے حکومت اور کاروباری معاہدوں کے تحت ایل پی جی درآمد کریں گے، جبکہ نجی درآمد کنندگان کو بھی کم قیمت پر گیس فراہم کرنے اور سپلائی کے انتظامات میں آزادی حاصل ہوگی۔

حکومتی منصوبے کے تحت مستحق اور کمزور طبقات کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے معیار پر 300 سے 350 روپے فی کلو ایل پی جی فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی ماہانہ کھپت تقریباً 25 لاکھ ٹن ہے، جس کا 70 فیصد درآمد کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب توانائی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے قیمتوں کے فارمولے کے تحت موجودہ 295 روپے فی کلو قیمت میں 200 روپے سے زائد اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا براہ راست بوجھ صارفین پر پڑے گا۔

More News