نئی دہلی: برکس اجلاس، بھارت سے متعلق جعلی اے آئی تصاویر پر تنقید
نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران سوشل میڈیا پر اجلاس سے متعلق بعض مبینہ جعلی اور اے آئی سے تیار کردہ تصاویر گردش کرنے لگیں۔ بھارت نے 12 اور 13 ستمبر 2026 کو اجلاس کی میزبانی کی، جس میں رکن ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق بی جے پی سے وابستہ حلقوں کی جانب سے ایسی تصاویر بھی شیئر کی گئیں جن میں برکس اجلاس میں ایسے شخصیات کو موجود دکھایا گیا جو وہاں موجود نہیں تھیں۔ ان میں سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی تصویر بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ بعض تصاویر میں ترک صدر کی اجلاس میں شرکت ظاہر کی گئی۔
برکس اجلاس میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت متعدد رکن ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ بھارتی حکومت کی جانب سے جاری سرکاری تصاویر میں بھی مودی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتوں کی تصاویر موجود ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے مبینہ جعلی تصاویر کے ذریعے سفارتی کامیابی دکھانے کی کوشش پر شدید تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ عالمی سفارتی فورم سے متعلق معلومات میں مصنوعی مواد کا استعمال کس حد تک قابلِ قبول ہے۔







