نئے صوبوں کے قیام کے حق میں طلبہ کی آواز بلند، بہتر گورننس کو وقت کی ضرورت قرار

نئے صوبوں کے قیام کے حق میں طلبہ کی آواز بلند، بہتر گورننس کو وقت کی ضرورت قرار

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے جاری بحث میں طلبہ نے بھی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں مزید صوبے بنانے کی حمایت کردی ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں 25 کروڑ سے زائد آبادی کو صرف 4 صوبوں میں تقسیم کرنا حکمرانی اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

طلبہ کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے مواقع پیدا ہوں گے، کیونکہ نسبتاً چھوٹے صوبوں کو سنبھالنا اور ان کے مسائل پر براہِ راست توجہ دینا آسان ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتیں اپنے علاقوں کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گی اور عوامی مسائل کے حل میں بھی تیزی آسکتی ہے۔

طالب علموں نے مؤقف اختیار کیا کہ بڑے صوبوں میں دور دراز علاقوں کے عوام کو سرکاری اداروں اور صوبائی دارالحکومت تک رسائی کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے، جبکہ نئے صوبوں کے قیام سے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم ہوسکتا ہے۔ اس سے شہری اپنے مسائل متعلقہ حکام تک زیادہ آسانی سے پہنچا سکیں گے۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے وسائل کی تقسیم، ترقیاتی منصوبوں اور روزگار کے مواقع پر بھی زیادہ توجہ دی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق ہر نئے صوبے کی اپنی حکومت اور انتظامی مشینری ہوگی، جس سے مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبہ بندی اور عوامی فلاح کے اقدامات بہتر انداز میں کیے جاسکتے ہیں۔

طالبات نے بھی نئے صوبوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو انتظامی طور پر مزید مؤثر یونٹس کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بڑے علاقوں کے مقابلے میں چھوٹے انتظامی علاقوں پر حکومت زیادہ توجہ دے سکتی ہے، جس سے تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

طلبہ نے بھارت اور افغانستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں وہاں زیادہ انتظامی یونٹس موجود ہیں، اس لیے پاکستان میں بھی آبادی، رقبے اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا قیام محض سیاسی نعرہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس معاملے کو انتظامی، معاشی اور عوامی ضروریات کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ طلبہ کے مطابق مؤثر حکمرانی، عوامی سہولیات کی فراہمی اور متوازن ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔

More News