وزیراعظم شہباز شریف: زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، ایکسپورٹ گروتھ دکھانا ہوگی
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو درپیش مشکل حالات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مل کر کام کیا، جس کے نتیجے میں معیشت کے مختلف شعبوں میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں بھی بہتری آئی ہے۔
وزیراعظم نے معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں صرف معاشی استحکام کافی نہیں بلکہ ایکسپورٹ گروتھ دکھانا ضروری ہے تاکہ ملک کی آمدنی میں اضافہ ہو اور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جاسکے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود مختلف شعبوں میں اقدامات کیے ہیں۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کو ملکی معیشت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کی گئی۔
وزیراعظم کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو بیرونی ادائیگیوں اور مالی استحکام کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاشی بہتری کے سفر کو برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بہتری آئی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان میں ڈیجیٹل بینکاری اور سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جبکہ ان کے ذریعے آنے والی رقوم بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدات میں اضافہ حکومت کی معاشی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے، برآمدی شعبے کی استعداد بہتر بنانے اور نئی منڈیوں کی تلاش پر توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے بعد اگلا مرحلہ پائیدار معاشی ترقی اور برآمدات میں اضافے کا ہے، تاکہ ملک کے معاشی اہداف حاصل کیے جاسکیں۔








