وفاقی تعلیمی بورڈ نے نہم و دہم کے نتائج کا اعلان کر دیا،لڑکیاں بازی لے گئیں

وفاقی تعلیمی بورڈ نے نہم و دہم کے نتائج کا اعلان کر دیا، طالبات نمایاں رہیں

اسلام آباد: وفاقی تعلیمی بورڈ (FBISE) نے سالانہ امتحانات 2026 کے نہم اور دہم جماعت کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ نتائج کے مطابق اس سال بھی طالبات نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹاپ پوزیشنز پر اپنی برتری برقرار رکھی، جبکہ مجموعی طور پر 10 میں سے 7 اعلیٰ پوزیشنیں طالبات کے نام رہیں۔ دوسری جانب وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کا کوئی بھی طالب علم ٹاپ پوزیشن حاصل نہ کر سکا۔

نتائج کے اعلان کی تقریب میں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ چیئرمین فیڈرل بورڈ نے امتحانی نتائج اور مجموعی کارکردگی سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق رواں سال مجموعی طور پر 2 لاکھ 92 ہزار 831 طلبہ و طالبات امتحانات میں شریک ہوئے۔

چیئرمین فیڈرل بورڈ نے بتایا کہ ایس ایس سی پارٹ ون (نہم جماعت) میں 1 لاکھ 50 ہزار 77 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے، جن میں سے 88 ہزار 646 کامیاب قرار پائے۔ اس طرح کامیابی کا مجموعی تناسب 59.77 فیصد رہا۔

اسی طرح ایس ایس سی پارٹ ٹو (دہم جماعت) میں 1 لاکھ 41 ہزار 653 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے، جن میں سے 1 لاکھ 28 ہزار 70 کامیاب ہوئے۔ دہم جماعت کا کامیابی کا تناسب 91.33 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو نہم جماعت کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

امتحانی عمل کے حوالے سے چیئرمین بورڈ نے بتایا کہ نقل کے 86 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ امتحانات کے انعقاد کے لیے ملک بھر میں 1006 امتحانی مراکز قائم کیے گئے۔ امتحانی عمل کی نگرانی کے لیے 2012 سپروائزری اسٹاف اور 6996 انویجیلیٹرز تعینات کیے گئے، جبکہ جوابی پرچوں کی جانچ کے لیے 4855 اساتذہ نے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پیپر چیکنگ کے لیے 10706 اساتذہ نے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

نتائج کے مطابق سائنس گروپ میں افیرا اعجاز نے 1089 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن اپنے نام کی۔ آمنہ نعمان نے 1088 نمبرز کے ساتھ دوسری جبکہ حزیفہ حیدر نے 1086 نمبرز لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کامیاب طلبہ و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی ترقی، خوشحالی اور قومی کامیابی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی دنیا میں نوجوانوں کو جدید علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا ہوگا تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علم مومن کی میراث ہے اور اسی میراث کو اپنی قومی روایات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

More News