وفاقی کابینہ نے حج پالیسی اور پلان 2030-2027 کی منظوری دے دی

وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2027-2030 کی منظوری دے دی، رجسٹریشن، ڈیجیٹل نظام اور سیونگ اسکیم متعارف

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج پالیسی اور پلان 2027-2030 کی منظوری دے دی گئی۔ نئی پالیسی کا مقصد آئندہ چار برسوں کے لیے حج انتظامات کو زیادہ مؤثر، شفاف اور جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ عازمین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اجلاس میں رواں سال کے حج انتظامات کو سراہتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی گئی۔ کابینہ کو نئی حج پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ یہ پہلی مرتبہ چار سالہ پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے، جو طویل المدتی منصوبہ بندی، انتظامی امور میں بہتری اور عازمین کو معیاری سہولیات کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق نئی پالیسی کے تحت حج کے خواہشمند افراد کو ہر سال نئی رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ 2030 تک ایک مرتبہ رجسٹریشن کرا سکیں گے۔ رجسٹرڈ افراد اپنی سہولت اور ضرورت کے مطابق کسی بھی سال حج کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ رجسٹریشن کی بنیاد پر ترجیحی ویٹنگ لسٹ بھی مرتب کی جائے گی تاکہ انتخاب کا عمل مزید شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ پالیسی کے تحت شرعی اصولوں کے مطابق ایک خصوصی حج سیونگ اسکیم بھی متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے ذریعے شہری مستقبل کے حج اخراجات کے لیے مرحلہ وار بچت کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کو آسان مالی منصوبہ بندی کے ذریعے فریضہ حج کی ادائیگی کا موقع فراہم کرنا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حج کے پورے نظام کو مرحلہ وار ڈیجیٹل بنایا جائے گا۔ رجسٹریشن، ادائیگیوں، شکایات کے اندراج، نگرانی اور دیگر انتظامی امور جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دیے جائیں گے، جس سے شفافیت، رفتار اور سہولت میں نمایاں بہتری آئے گی۔

نئی پالیسی کے مطابق سرکاری اور نجی حج اسکیموں کے لیے کوٹہ بھی واضح طور پر مختص کیا گیا ہے، جبکہ عازمین کی سہولت کے لیے لانگ حج اور شارٹ حج پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ لازمی تربیت، تکافل، ہنگامی رسپانس اور دیگر معاون سہولیات کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ سفرِ حج کو زیادہ محفوظ اور منظم بنایا جا سکے۔

وفاقی کابینہ نے ہدایت کی کہ معاونینِ حج کی تقرری مکمل شفافیت اور خالصتاً میرٹ پر کی جائے، جبکہ سرکاری اور نجی حج انتظامات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی یقینی بنائی جائے۔ کابینہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نئی حج پالیسی کے ذریعے پاکستانی عازمین کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور سعودی قوانین و ضوابط سے مکمل ہم آہنگی برقرار رکھی جائے گی۔

More News