پانچ اگست کو پشاور جلسے میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، بیرسٹر گوہر
راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا ہے کہ 5 اگست کو پشاور میں ہونے والے پارٹی کے بڑے جلسے میں آئندہ سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں بھی اس جلسے میں پی ٹی آئی کا ساتھ دیں گی۔
اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 5 اگست پارٹی کے لیے ایک اہم دن ہوگا اور اسی روز مستقبل کی سیاسی حکمت عملی قوم کے سامنے رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی جدوجہد جمہوری طریقے سے جاری رکھے گی اور تمام فیصلے آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں گے۔
آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ ان کے مطابق انتخابات میں ٹرن آؤٹ صرف 5 سے 7 فیصد رہا، جو انتہائی کم تھا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سیاسی عمل پر یقین رکھتی ہے اور انتخابات آج ہوں یا کل، جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے کیونکہ انتخابات دوبارہ بھی ہو سکتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہونا موجودہ سیاسی صورتحال میں بہتری کی کنجی ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ملاقاتوں کی اجازت دی جائے تو سیاسی ماحول میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے اور مختلف معاملات میں پیش رفت ممکن ہوگی۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی کے خلاف درج مقدمے پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مقدمات سے حالات بہتر نہیں ہوتے بلکہ سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کسی بھی صورت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص دہشت گردی میں ملوث ہے، اسے دہشت گرد ہی سمجھا جانا چاہیے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کی ترقی، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کے لیے آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرتے ہوئے قومی مفاد میں دانشمندانہ فیصلے کرنے چاہییں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔








