پاور سیکٹر میں جدید حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پہلی ڈیٹا گورننس کونسل قائم
اسلام آباد: ملکی پاور سیکٹر میں شفافیت، مؤثر حکمرانی اور جدید ڈیٹا مینجمنٹ کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر توانائی اویس لغاری کی قیادت میں پبلک سیکٹر کی پہلی ڈیٹا گورننس کونسل قائم کر دی گئی ہے، جس کا مقصد توانائی کے شعبے میں ڈیٹا کے معیار، تحفظ اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق ماضی میں مختلف اداروں کی جانب سے متضاد اور غیر یکساں اعداد و شمار جاری کیے جانے کے باعث پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے عمل میں متعدد مشکلات کا سامنا رہا۔ اس کے علاوہ کمزور کوالٹی کنٹرول اور ناکافی ڈیٹا سیکیورٹی کے باعث رپورٹنگ کے نظام کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی رہی، جس سے شعبے کی مجموعی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ نئی ڈیٹا گورننس کونسل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے تاکہ پاور سیکٹر کے تمام متعلقہ ادارے اور شراکت دار ایک ہی مستند، تصدیق شدہ اور قابلِ اعتماد ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کر سکیں۔ اس اقدام سے اداروں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا اور معلومات کے تبادلے کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
پاور ڈویژن کے مطابق کونسل کے قیام سے بجلی کی طلب اور رسد کے حوالے سے زیادہ درست تخمینے لگانے میں مدد ملے گی، جبکہ ممکنہ خطرات اور چیلنجز کی بروقت نشاندہی بھی ممکن ہو سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، وسائل کے مؤثر استعمال اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی میں بھی نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جدید ڈیٹا گورننس نظام سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گا۔ سرمایہ کاروں کو تصدیق شدہ اور قابلِ اعتماد معلومات تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی، جس سے توانائی کا شعبہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنے گا۔ شفاف اور مستند اعداد و شمار کی دستیابی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ طویل المدتی منصوبوں کی کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
ماہرین کے مطابق پاور سیکٹر میں ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو نہ صرف ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری لائے گا بلکہ توانائی کے شعبے میں شفافیت، احتساب اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
یہ اقدام مستقبل میں توانائی کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، فیصلہ سازی کے عمل کو مؤثر بنانے اور قومی معیشت میں توانائی کے شعبے کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے








