پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کا او آئی سی کی جانب سے خیرمقدم
معاہدہ خطے اور پوری مسلم دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا، سیکریٹری جنرل او آئی سی
اسلام آباد: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے اور مسلم دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ابراہیم طحہ نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ خطے کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی مثبت ثابت ہوسکتا ہے۔
سیکریٹری جنرل او آئی سی کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف شریک ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ مسلم دنیا میں تعاون اور شراکت داری کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون، مشاورت اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ابراہیم طحہ نے امید ظاہر کی کہ معاہدے کے نتیجے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ ان کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان تعمیری شراکت داری کو فروغ دینے کی ایک مثبت مثال ہے۔ او آئی سی سیکریٹری جنرل نے اس توقع کا اظہار کیا کہ معاہدے کے تحت تعاون کے نتیجے میں علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
او آئی سی کی جانب سے معاہدے کا خیرمقدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال اور باہمی دفاعی تعاون پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ تنظیم کے مطابق رکن ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری مسلم دنیا کے اجتماعی مفادات کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔








