پاکستانی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کو بڑا دھچکا، کے آر ایل نے ٹیم ختم کر دی

پاکستانی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کو بڑا دھچکا، کے آر ایل نے کرکٹ ٹیم ختم کر دی

لاہور: پاکستان کی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب ملک کی معروف ٹیم خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) نے مالی مشکلات کے باعث اپنی کرکٹ ٹیم ختم کرنے اور موجودہ سیزن سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلے کو ملکی ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے ایک اہم نقصان قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کے آر ایل کئی دہائیوں سے پاکستان کرکٹ میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی تربیت اور انہیں قومی سطح پر متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے لیے سالانہ ڈیڑھ کروڑ روپے انٹری فیس مقرر کیے جانے کے بعد کے آر ایل انتظامیہ کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ٹیم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انتظامیہ نے تمام کھلاڑیوں کو فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے اور انہیں دیگر ڈیپارٹمنٹس سے موصول ہونے والی پیشکشیں قبول کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

کے آر ایل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹیم کو بند کرنا ایک انتہائی مشکل فیصلہ تھا، تاہم بڑھتے ہوئے مالی اخراجات اور نئی انٹری فیس کے باعث اس سیزن میں ٹیم کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ حکام کے مطابق پیر کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ کو باضابطہ طور پر ڈیپارٹمنٹل کرکٹ میں حصہ نہ لینے سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔

ٹیم مینیجر رضوان آصف نے بتایا کہ جن کھلاڑیوں کو دیگر اداروں سے آفرز موصول ہو چکی ہیں، وہ مکمل طور پر آزاد ہیں، جبکہ جن کھلاڑیوں کے پاس تاحال کوئی پیشکش نہیں، ان کے معاہدے مقررہ مدت یعنی ستمبر تک برقرار رہیں گے۔ معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے بعد تمام کھلاڑیوں، کوچز اور سپورٹ اسٹاف کو باضابطہ طور پر ریلیز کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کے آر ایل اپنے تمام کھلاڑیوں، کوچز اور معاون عملے کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور ان کی محنت کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کو ادارے اور پاکستانی کرکٹ دونوں کے لیے افسوسناک قرار دیا۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ واپڈا نے بھی تاحال پی سی بی کی مقررہ فیس جمع نہیں کرائی، جس کے باعث ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے مستقبل پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماضی میں پی آئی اے، یو بی ایل، الائیڈ بینک، نیشنل بینک اور دیگر کئی بڑی ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں بھی بند ہو چکی ہیں، جبکہ اب کے آر ایل کی علیحدگی نے اس نظام کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی سی بی اور مختلف اداروں کے درمیان انٹری فیس کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے تو مزید ٹیمیں بھی ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو سکتی ہیں۔ تاہم پی سی بی حکام کا مؤقف ہے کہ بعض ادارے مقررہ فیس ادا کر کے ایونٹ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ کرکٹ ماہرین کے مطابق اگر ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے مسائل جلد حل نہ کیے گئے تو ملکی ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ مزید متاثر ہو سکتا ہے۔

More News