پاکستان میں سائبر کرائم کے خلاف بڑی کارروائی، 76 غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

پاکستان میں سائبر کرائم کے خلاف بڑی کارروائی، 76 غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں مبینہ سائبر کرائم اور آن لائن مالی فراڈ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے 284 غیر ملکیوں میں سے 76 کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اسلام آباد کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کارروائی کرتے ہوئے بڑی تعداد میں غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا تھا۔

حکام کے مطابق گرفتار افراد میں زیادہ تر کا تعلق چین، ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا سے بتایا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں ان افراد کے مبینہ طور پر غیر قانونی کال سینٹرز چلانے اور آن لائن مالی فراڈ سمیت مختلف سائبر جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار غیر ملکی شہری سیاحتی، وزٹ اور بزنس ویزوں پر پاکستان آئے تھے، تاہم مبینہ طور پر ویزا شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوگئے۔

حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران مبینہ سائبر کرائم اور آن لائن بھتہ خوری سے متعلق سرگرمیوں کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ تفتیشی ادارے گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کے ذریعے نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور اس کے ممکنہ سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔

وزارت داخلہ نے گرفتار غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کردیئے ہیں، جبکہ تمام گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 284 گرفتار غیر ملکیوں میں سے 76 افراد کی ملک بدری کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان کی پاکستان سے روانگی کے لیے ضروری قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی سرگرمیوں، ویزا قوانین کی خلاف ورزی اور مبینہ سائبر جرائم کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اگر تحقیقات کے دوران مزید افراد یا اداروں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

حالیہ کارروائی کو پاکستان میں سائبر جرائم، آن لائن مالی فراڈ اور غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔ متعلقہ ادارے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

More News