پاکستان میں سمندر کنارے بہترین کوالٹی کی گیس کی پہلی کامیاب دریافت
کراچی: پاکستان میں سمندر کنارے بہترین معیار کی گیس کی پہلی کامیاب دریافت سامنے آگئی ہے، جسے ملکی توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) کے مطابق ضلع سجاول میں نئے ہائیڈرو کاربن ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔
سرانی بلاک میں اہم دریافت
پی پی ایل کے ترجمان کے مطابق سرانی بلاک کے کنویں ڈولفن ایکس ون سے گیس کی پہلی اور اہم دریافت ہوئی ہے۔ یہ دریافت لوئر انڈس بیسن کی چلتن فارمیشن سے ہونے والی پہلی دریافت بھی قرار دی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق کنویں سے یومیہ تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے، جو ملک کی توانائی ضروریات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
3 ہزار 850 میٹر گہرائی تک کھدائی
اعلامیے کے مطابق ڈولفن ایکس ون کنویں کی کھدائی کا کام 17 اپریل کو شروع کیا گیا تھا، جبکہ کنویں کو تقریباً 3 ہزار 850 میٹر کی گہرائی تک کھودا گیا۔
سرانی بلاک میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ 75 فیصد حصص کے ساتھ آپریٹر ہے، جبکہ جی ایچ پی پاکستان 25 فیصد حصص کے ساتھ شراکت دار ہے۔
پی پی ایل نے اس اہم پیش رفت سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی خط کے ذریعے آگاہ کردیا ہے۔
پاکستان نیوی کے تعاون پر اظہار تشکر
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے ڈولفن ایکس ون منصوبے میں تعاون پر پاکستان نیوی کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق منصوبے کی تکمیل میں متعلقہ اداروں کے تعاون نے اہم کردار ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق سمندر کے قریب دلدلی زمین اور ممکنہ کم گہرائی والے علاقے میں گیس کی یہ دریافت پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
شیلو آف شور علاقوں میں امکانات روشن
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دریافت سے پاکستان کے شیلو آف شور علاقوں میں مزید ہائیڈرو کاربن ذخائر تلاش کرنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اس کامیابی کے بعد ان علاقوں میں مزید تلاش اور دریافت کے منصوبوں میں دلچسپی بڑھ سکتی ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر گیس کے نئے ذخائر کی دریافت سے درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے اور ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
حکام اور متعلقہ اداروں کے مطابق نئی دریافت کو ملکی توانائی کے شعبے میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں مزید تلاش کے نتیجے میں اضافی ذخائر سامنے آنے کی امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔








