پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں آئی ٹی برآمدات نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جولائی 2026 کی آئی ٹی ایکسپورٹ کا تازہ ترین ڈیٹا جاری کردیا ہے، جس کے مطابق ملکی آئی ٹی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں پاکستان نے 41 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کیں۔ یہ رقم گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہے، جبکہ ماہانہ بنیاد پر بھی آئی ٹی ایکسپورٹ میں تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں مسلسل کئی ماہ سے 400 ملین ڈالر سے زائد کا ماہانہ مومنٹم برقرار ہے، جو ملک کے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔

پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، فری لانسنگ، آئی ٹی سروسز، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں میں پاکستانی ماہرین عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ ان شعبوں سے حاصل ہونے والی برآمدی آمدنی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو رواں مالی سال پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 5 ارب ڈالر کا اہم سنگ میل عبور کرسکتی ہیں۔ گزشتہ مالی سال بھی پاکستان نے آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً پونے 5 ارب ڈالر کی برآمدات حاصل کی تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران صرف پاکستانی فری لانسرز نے بھی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں حصہ ڈالا اور تقریباً پونے 2 ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدی آمدنی حاصل کی۔ فری لانسنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ملک کے نوجوانوں کے لیے عالمی سطح پر روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافے کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، تیز رفتار انٹرنیٹ، ٹیکنالوجی تعلیم، فری لانسرز اور سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے سہولیات کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔

اگر آئی ٹی شعبے میں موجودہ ترقی کی رفتار برقرار رہتی ہے تو پاکستان آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل سروسز کی عالمی مارکیٹ میں مزید نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔

More News