پشاور اسکول سانحہ: اے آئی سے تیار کردہ تصاویر نے تشہیر اور حقیقت کے فرق پر سوالات اٹھا دیے

پشاور اسکول سانحہ: اے آئی سے تیار کردہ تصاویر نے تشہیر اور حقیقت کے فرق پر سوالات اٹھا دیے

پشاور: دیر کالونی میں قائم الخیر ایجوکیشن سسٹم کی عمارت کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد اسکول کی سوشل میڈیا تشہیر میں استعمال ہونے والی تصاویر اور عمارت کی اصل حالت کے درمیان مبینہ فرق پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس واقعے نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تعلیمی اداروں کی تشہیر، والدین کو فراہم کی جانے والی معلومات اور ڈیجیٹل مواد کی شفافیت سے متعلق بحث کو بھی جنم دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود اسکول کی تصاویر کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمارت اور بچوں کی بعض تصاویر کو مصنوعی ذہانت یا ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کے ذریعے اس انداز میں پیش کیا گیا کہ ادارہ جدید اور بہتر سہولیات سے آراستہ دکھائی دیتا تھا۔ تاہم تصاویر میں اے آئی کے استعمال اور ان میں کی گئی تبدیلیوں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے تصاویر کو بہتر بنانا بذاتِ خود غیر قانونی یا غیر اخلاقی نہیں، لیکن اگر ڈیجیٹل تبدیلیوں سے کسی ادارے کی عمارت، کلاس رومز یا دستیاب سہولیات کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا ہو تو یہ والدین کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی تشہیر میں حقیقی حالات کی درست عکاسی اور معلومات کی شفافیت اہم سمجھی جاتی ہے۔

اسکول کی عمارت اور حفاظتی انتظامات کی تحقیقات

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق اسکول کی عمارت تنگ گلیوں میں واقع تھی، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔ ان کے مطابق عمارت میں تین کلاسیں تھیں اور تقریباً 110 بچے زیرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے چھت پر ممکنہ اضافی وزن کو حادثے کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا۔

پولیس کے مطابق اسکول کے مالک کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے عمارت کی قانونی حیثیت، متعلقہ این او سی، حفاظتی تقاضوں اور حادثے کی وجوہات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ عمارت کی اصل ساخت اور چھت کے گرنے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔

اسکول کی رجسٹریشن کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دستیاب معلومات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریگولیٹری اتھارٹی کی فہرست میں الخیر پبلک اسکول کے نام سے دو ادارے موجود ہیں، تاہم الخیر ایجوکیشن سسٹم کے نام سے رجسٹریشن کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس معاملے پر متعلقہ اتھارٹی کا باضابطہ ریکارڈ اہم ہوگا۔

پاکستان میں اے آئی کے استعمال کے لیے واضح فریم ورک کی ضرورت

اس سانحے نے مصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل شدہ تصاویر کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کیے ہیں۔ اگر کوئی اسکول یا کاروباری ادارہ اپنی تشہیر میں عمارت اور سہولیات کی ایسی تصاویر استعمال کرتا ہے جو اصل صورتِ حال کی درست نمائندگی نہیں کرتیں، تو صارفین کو اس تبدیلی سے آگاہ کرنے کے طریقہ کار پر غور کیا جانا چاہیے۔

ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے یہ اہم معاملہ ہے کہ ڈیجیٹل مواد کی شفافیت، اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کی نشاندہی اور گمراہ کن تشہیر کی روک تھام کے لیے مؤثر اصول وضع کیے جائیں۔ خصوصاً تعلیمی اداروں، طبی مراکز اور دیگر ایسے شعبوں میں جہاں لوگوں کے فیصلے معلومات کی بنیاد پر ہوتے ہیں، حقیقی سہولیات کی درست عکاسی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

پاکستان میں اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ اس پر عمل درآمد، عوامی آگاہی اور شکایات کے مؤثر نظام پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پشاور کا یہ افسوسناک واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی تصاویر اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

More News

Crime

مالیاتی اداروں اور اہم تنصیبات پر اے آئی سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا، نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کی ایڈوائزری جاری

مالیاتی اداروں اور اہم تنصیبات پر اے آئی سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا، نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کی ایڈوائزری جاری ملک میں مالیاتی

Read More »