پشاور میں ضبط شدہ اور سرکاری پول گاڑیوں کے استعمال سے متعلق اہم انکشافات، دستاویزات منظرِ عام پر آگئیں
پشاور:سید عدنان
محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے زیرِ انتظام ضبط شدہ اور سرکاری پول گاڑیوں کے استعمال سے متعلق اہم دستاویزات اور ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات منظرِ عام پر آگئی ہیں، جن میں متعدد گاڑیوں کے سیاسی شخصیات اور حکومتی عہدیداروں کے زیرِ استعمال ہونے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان دستاویزات اور اطلاعات نے سرکاری وسائل کے استعمال اور ضبط شدہ گاڑیوں کی انتظامی حیثیت کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق ایک ضبط شدہ ٹویوٹا پریئس 2019 ماڈل گاڑی، جو مبینہ طور پر ایکسائز ویئرہاؤس میں موجود تھی، کو سرکاری استعمال کے لیے جاری کیا گیا۔ ایکسائز ویئرہاؤس کی جانب سے جاری کردہ روڈ یوز اینڈ ڈیوٹی سلپ میں گاڑی کا اصل رجسٹریشن نمبر AUA-145 درج ہے۔ دستاویز میں گاڑی کو ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی ملکیت ظاہر کیا گیا ہے اور اس کے استعمال کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ بھی جاری کیا گیا۔
دستاویز کے مطابق مذکورہ گاڑی کو سرکاری ڈیوٹی کے مقصد کے تحت استعمال کرنے کی منظوری دی گئی۔ روڈ یوز سلپ میں درج تفصیلات کے مطابق گاڑی رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کے زیرِ استعمال رہی۔ دستاویز میں یہ شرط بھی واضح طور پر شامل ہے کہ اگر ضرورت پیش آئے تو گاڑی کو فوری طور پر ایکسائز ویئرہاؤس یا متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس شرط سے اندازہ ہوتا ہے کہ گاڑی کی قانونی اور انتظامی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے محکمہ کی جانب سے مخصوص ضوابط مقرر کیے گئے تھے۔
مزید برآں، منظرِ عام پر آنے والی سلپ میں گاڑی کے لیے ڈسپلے رجسٹریشن نمبر AB-8261 پشاور درج کیا گیا ہے، جبکہ اصل رجسٹریشن نمبر اس سے مختلف بتایا گیا ہے۔ دستاویز پر ایکسائز ویئرہاؤس پشاور کے آفیسر انچارج کے دستخط اور سرکاری مہر بھی موجود ہیں، جس کے باعث دستاویز کی اہمیت اور حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واحد گاڑی نہیں جو سرکاری یا سیاسی شخصیات کے زیرِ استعمال ہے، بلکہ ایک نئی ماڈل ہونڈا اکارڈ گاڑی بھی صوبائی حکومت کے ایک اہم عہدیدار کے زیرِ استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن نمبر KP-091 والی ہونڈا اکارڈ صوبائی وزیر مینا خان استعمال کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ گاڑی محکمہ ایکسائز کے سرکاری پول سے فراہم کی گئی اور اسے سرکاری مقاصد کے لیے مختص کیا گیا۔
اسی طرح ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ رجسٹریشن نمبر 9254 والی جدید ٹویوٹا ریوو پک اپ پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر کے زیرِ استعمال ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ گاڑی بھی سرکاری پول میں شامل گاڑیوں میں شمار ہوتی ہے اور اسے سرکاری گاڑی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس سے سرکاری گاڑیوں کی تقسیم اور ان کے استعمال کے طریقہ کار پر مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک اور اہم گاڑی، ٹویوٹا وی ایٹ (V8) جیپ، بھی سیاسی شخصیت کے استعمال میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی ایم ہاؤس پول سے تعلق رکھنے والی اس گاڑی کا رجسٹریشن نمبر AB-6600 ہے اور یہ بھی رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کے زیرِ استعمال ہے۔ سی ایم ہاؤس پول کی گاڑیاں عمومی طور پر اعلیٰ سرکاری حکام اور سرکاری ذمہ داریوں کے لیے مختص کی جاتی ہیں، اس لیے ان گاڑیوں کے استعمال سے متعلق سامنے آنے والی معلومات خصوصی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب انتظامی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ضبط شدہ گاڑیاں یا سرکاری پول کی گاڑیاں قواعد و ضوابط کے مطابق مختص کی گئی ہوں تو اس میں قانونی طور پر کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم ایسی تمام گاڑیوں کے استعمال کا مکمل ریکارڈ، منظوری کے دستاویزات اور متعلقہ قوانین کے تحت جاری احکامات موجود ہونا ضروری ہیں۔ ماہرین کے مطابق عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے سرکاری اثاثوں کے استعمال میں شفافیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ انکشافات کے بعد ضروری ہے کہ محکمہ ایکسائز، صوبائی حکومت اور دیگر متعلقہ ادارے اس معاملے پر اپنی باضابطہ وضاحت جاری کریں تاکہ سامنے آنے والی معلومات کی حقیقت، گاڑیوں کی قانونی حیثیت اور ان کے استعمال کے قواعد کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا جا سکے۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی ان اطلاعات پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر تمام گاڑیاں قانونی اور انتظامی منظوری کے تحت استعمال ہو رہی ہیں تو اس کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں، جبکہ دیگر حلقے اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کیا جا سکے۔
تاحال محکمہ ایکسائز، صوبائی حکومت، متعلقہ وزراء یا مذکورہ سیاسی شخصیات کی جانب سے منظرِ عام پر آنے والی دستاویزات اور دعوؤں کے حوالے سے کوئی تفصیلی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم دستاویزات اور ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات نے سرکاری وسائل، ضبط شدہ گاڑیوں کے انتظام اور ان کے استعمال کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے








