پشاور پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ کے 11 طلبہ گرفتار
طلبہ کا احتجاج، خواتین سٹوڈنٹس بھی پولیس حراست میں؛ مبینہ تشدد اور بدسلوکی کے الزامات
پشاور: پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ پشاور کے 11 طلبہ و طالبات کو مبینہ طور پر اپنے تعلیمی مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے پر گرفتار کرلیا گیا، جن میں خواتین سٹوڈنٹس بھی شامل ہیں۔
طلبہ کے مطابق وہ کالج میں درپیش تعلیمی اور رہائشی مسائل کے حل کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے، تاہم مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کرنے کے بجائے پولیس کو طلب کرلیا گیا اور متعدد طلبہ و طالبات کو حراست میں لے لیا گیا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ لڑکوں کے لیے مختص ہاسٹلز مبینہ طور پر فیکلٹی ممبران کو دے دیے گئے ہیں، جس کے باعث طلبہ دوسرے سمسٹر تک ہاسٹل کی بنیادی سہولت سے محروم رہتے ہیں۔ ان کے مطابق نرسنگ کی تعلیم کے دوران دوسرے سمسٹر میں کلینیکل پریکٹس کے لیے تقریباً دو ماہ کا وقت دیا جاتا ہے، تاہم انتظامیہ، بالخصوص پرنسپل کی مبینہ عدم دلچسپی کے باعث طلبہ اس اہم تعلیمی موقع سے بھی مناسب طور پر فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
طلبہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کیا، لیکن ان کے مسائل سننے اور حل کرنے کے بجائے پولیس کارروائی کی گئی۔
دوسری جانب گرفتار طلبہ کی جانب سے پولیس پر مبینہ تشدد اور بدسلوکی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس نے بعض سٹوڈنٹس کے ساتھ مبینہ طور پر سخت رویہ اختیار کیا۔
سامنے آنے والی ویڈیوز کے حوالے سے طلبہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس کارروائی اور مبینہ ہتھاپائی کے دوران ایک خاتون طالبہ کو پولیس گاڑی کی ٹکر بھی لگی۔ تاہم اس واقعے کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آسکی۔
طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ زیرِ حراست تمام طلبہ و طالبات، خصوصاً خواتین سٹوڈنٹس کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور پولیس کارروائی کے دوران مبینہ تشدد و بدسلوکی کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
طلبہ نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ خاتون طالبہ کو پولیس گاڑی کی مبینہ ٹکر لگنے کے واقعے کی بھی شفاف انکوائری کی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔
طلبہ کے مطابق ان کا احتجاج کسی تصادم کے لیے نہیں بلکہ تعلیمی، رہائشی اور کلینیکل پریکٹس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تھا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر طلبہ کے مطالبات پر بات چیت کے ذریعے حل نکالا جائے۔








