پشاور ہائیکورٹ: یونیورسٹیوں میں ایڈمنسٹریٹو پوسٹوں پر اساتذہ کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر جواب طلب
پشاور:عارف اکرام
پشاور ہائیکورٹ میں یونیورسٹیوں میں ایڈمنسٹریٹو (انتظامی) پوسٹوں پر اساتذہ کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر عدالت نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ایچ ای ڈی) اور صوبے کی تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز سے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ تمام فریقین ایک ماہ کے اندر اپنے جوابات جمع کرائیں۔
درخواست گزار کے وکیل آصف بابر ایڈووکیٹ کے مطابق یونیورسٹیوں میں انتظامی نوعیت کی آسامیوں پر اساتذہ کی تعیناتی کی جا رہی ہے، جو کہ قانونی طور پر درست نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وائس چانسلرز اپنی مرضی سے مخصوص اساتذہ کو ان عہدوں پر تعینات کر رہے ہیں۔
وکیل کے مطابق خیبرپختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ کے سیکشن 17 اے میں واضح طور پر درج ہے کہ انتظامی پوسٹوں پر تدریسی عملے کو تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی اس شق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تقرریاں کی جا رہی ہیں۔
آصف بابر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹیز اس وقت مالی بحران کا شکار ہیں، اور ان میں ایک بڑی وجہ غیر متعلقہ افراد کی انتظامی عہدوں پر تعیناتی ہے، جس سے ادارہ جاتی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام یونیورسٹیز میں انتظامی پوسٹوں پر متعلقہ اور اہل افسران کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اداروں کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔
عدالت نے فریقین کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر مکمل وضاحت کے ساتھ جواب جمع کرایا جائے تاکہ کیس کی مزید سماعت آگے بڑھائی جا سکے۔








