پشاور ہائیکورٹ کا لانگ مارچ درخواست پر عبوری ریلیف سے انکار
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی جانب سے لانگ مارچ سے متعلق دائر درخواست پر فوری عبوری ریلیف دینے سے انکار کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تمام فریقین کا مؤقف سنے بغیر عبوری ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔
سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ لانگ مارچ کو درخواست گزاروں کے حلقوں سے گزرنے کی اجازت دی جائے اور اس کے راستے میں ممکنہ رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں۔
وکیل کا مؤقف تھا کہ لانگ مارچ جاری ہے اور درخواست گزار قانون کے مطابق اپنے حلقوں میں مارچ کا استقبال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے فوری ریلیف کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ معاملے میں تاخیر کی گنجائش نہیں کیونکہ مارچ کے حوالے سے سرگرمیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم پہلے ہی موجود ہے۔ انہوں نے عدالت سے مزید تیاری کے لیے وقت مانگا اور کیس کی سماعت آئندہ روز تک ملتوی کرنے کی استدعا کی۔
عدالت نے فوری عبوری ریلیف دینے سے گریز کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا اور درخواست پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت میں فریقین کے مؤقف سامنے آنے کے بعد عدالت درخواست پر مزید کارروائی کرے گی۔
عدالتی کارروائی کے دوران واضح کیا گیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے لانگ مارچ کو قانونی دائرے میں جاری رکھنے اور ممکنہ رکاوٹوں سے متعلق استدعا کی گئی ہے، جبکہ حکومتی فریق نے موجودہ عدالتی احکامات کی روشنی میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔








