پشاور یونیورسٹی درجہ چہارم ملازمین کا تنخواہیں اور پینشن نہ ملنے پر ہڑتال

پشاور یونیورسٹی میں تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر درجہ چہارم ملازمین کی ہڑتال

کلاس فور ملازمین کا قلم اور کام چھوڑ احتجاج، ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی، دفاتر بند ہونے سے دفتری امور متاثر

پشاور: جامعہ پشاور کے درجہ چہارم ملازمین نے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف قلم اور کام چھوڑ ہڑتال شروع کردی، جس کے باعث جامعہ کے تمام دفاتر بند ہوگئے اور انتظامی امور متاثر ہونے لگے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور یونیورسٹی کے کلاس فور ملازمین نے اپنے مطالبات کی منظوری اور واجب الادا تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ملازمین نے یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے جمع ہوکر انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور اپنے حقوق کے حق میں آواز بلند کی۔

احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے انہیں طویل عرصے سے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث ملازمین اور ان کے خاندان شدید مالی پریشانیوں سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق تنخواہیں اور پنشن ہر ملازم کا بنیادی حق ہیں، تاہم بار بار مطالبات کے باوجود ادائیگی کا مسئلہ حل نہیں کیا جارہا۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی کو سرکاری گرانٹ ملنے کے باوجود ملازمین کو ان کی تنخواہیں اور پنشن ادا نہیں کی جارہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ادارے کو مالی وسائل فراہم کیے جارہے ہیں تو پھر ملازمین کو ان کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے۔

ہڑتال کے باعث جامعہ پشاور کے تمام دفاتر بند ہوگئے، جس سے یونیورسٹی کے معمول کے دفتری اور انتظامی امور متاثر ہوئے۔ ملازمین نے واضح کیا کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے اور کسی صورت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے ان کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن نہ ملنے سے بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ بیشتر افراد اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے پنشن پر انحصار کرتے ہیں۔

احتجاجی ملازمین نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تمام واجب الادا تنخواہیں اور پنشن جاری کی جائیں اور آئندہ ادائیگیوں کو بروقت یقینی بنایا جائے۔

ملازمین نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک تنخواہوں اور پنشن کی مکمل ادائیگی نہیں ہوتی، ان کی قلم اور کام چھوڑ ہڑتال جاری رہے گی۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہوسکے گی۔

More News