ایف آئی آر سرکاری ملازمت سے نااہلی کی بنیاد نہیں، سرکاری بھرتیوں کے لیے اہم اصول وضع

ایف آئی آر سرکاری ملازمت سے نااہلی کی بنیاد نہیں، وفاقی آئینی عدالت نے اہم اصول وضع کر دیے

مقدمے سے بریت کے باوجود پولیس بھرتی سے محروم کرنے کا فیصلہ کالعدم، درخواست گزار کو 30 دن میں تعینات کرنے کا حکم

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محض ایف آئی آر کا اندراج کسی امیدوار کو سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار دینے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے مقدمے سے بری ہونے کے باوجود پولیس بھرتی سے محروم کیے گئے امیدوار کی نااہلی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو 30 دن کے اندر تعیناتی کا عمل مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ایف آئی آر کسی جرم کا حتمی ثبوت نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذریعے صرف کسی واقعے یا الزام کی اطلاع درج کی جاتی ہے۔ لہٰذا کسی امیدوار کو محض مقدمے کے اندراج یا غیر مصدقہ شبہات کی بنیاد پر سرکاری ملازمت سے محروم نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب متعلقہ شخص عدالت سے بری ہو چکا ہو۔

عدالت نے سرکاری بھرتیوں کے لیے چھ اہم آئینی اصول بھی وضع کیے۔ فیصلے کے مطابق کسی امیدوار کو نااہل قرار دینے کے لیے مستند اور ٹھوس شواہد کا ہونا ضروری ہے۔ عدالتی بریت کو تسلیم کرنا لازم ہے اور امیدوار کے کردار سے متعلق منفی رپورٹ محض قیاس آرائی یا غیر مصدقہ معلومات پر مرتب نہیں کی جا سکتی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ زیرِ سماعت مقدمات کا ذکر صرف ان کی موجودہ قانونی حیثیت کے تناظر میں کیا جا سکتا ہے۔ کسی زیرِ سماعت مقدمے کو جرم ثابت ہونے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح کسی امیدوار کو بھرتی کے عمل سے خارج کرنے سے پہلے اپنا مؤقف پیش کرنے اور صفائی کا مناسب موقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

کیس کے مطابق درخواست گزار عبداللطیف نے 2018 میں ایک مقدمے سے بریت حاصل کرنے کے بعد ڈرائیور کانسٹیبل کی بھرتی کے عمل میں حصہ لیا اور دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ تاہم پولیس حکام نے ان کے خلاف درج سابقہ مقدمے کی بنیاد پر انہیں بھرتی کے لیے نااہل قرار دے دیا، حالانکہ وہ مقدمے سے بری ہو چکے تھے۔

درخواست گزار نے پولیس کے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، تاہم وہاں سے ریلیف نہ ملنے پر انہوں نے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد امیدوار کو نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ دونوں کالعدم قرار دے دیے۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کا طبی معائنہ اور دیگر ضروری قانونی کارروائی 30 دن کے اندر مکمل کی جائے اور تمام تقاضے پورے ہونے پر ان کی تعیناتی کا حکم جاری کیا جائے۔

یہ فیصلہ سرکاری ملازمتوں میں شفافیت، امیدواروں کے آئینی حقوق اور منصفانہ بھرتی کے عمل کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی شہری کے خلاف مقدمہ درج ہونا بذاتِ خود اس کے کردار یا اہلیت کے خلاف حتمی فیصلہ نہیں ہو سکتا اور بھرتی کے دوران ہر امیدوار کے ساتھ قانون اور آئین کے مطابق برتاؤ ضروری ہے۔

More News