پمز آتشزدگی: فائر بریگیڈ رپورٹ میں حفاظتی انتظامات کی سنگین خامیوں کا انکشاف

پمز آتشزدگی: فائر بریگیڈ رپورٹ میں حفاظتی انتظامات کی سنگین خامیوں کا انکشاف

اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والی سی ڈی اے فائر بریگیڈ کی رپورٹ نے اسپتال میں فائر سیفٹی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پمز میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھے۔

فائر بریگیڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپتال میں ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر باہر سے بند تھے، جبکہ مختلف راستوں میں رکاوٹیں بھی موجود تھیں۔ ان حالات کے باعث کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں، نومولود بچوں اور طبی عملے کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنا مشکل ہوسکتا تھا۔

رپورٹ میں فائر فائٹنگ آپریشن کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ سی ڈی اے فائر بریگیڈ کے مطابق پمز اسپتال کے سیکیورٹی عملے نے فائر بریگیڈ اہلکاروں کی ابتدائی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی، جبکہ موقع پر موجود ہجوم کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی تھے۔

فائر بریگیڈ رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے صرف 6 منٹ بعد پہلی فائر گاڑی پمز اسپتال پہنچ گئی تھی۔ تاہم جائے وقوعہ پر موجود بعض حفاظتی خامیوں کے باعث امدادی کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس سے قبل ریسکیو ذرائع نے بھی پمز اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے اہم انکشافات کیے تھے۔ ذرائع کے مطابق فائر پوائنٹ پر پانی دستیاب نہیں تھا، جبکہ فائر ہوز میں ضروری کپلنگز بھی موجود نہیں تھے۔ مزید بتایا گیا کہ ہنگامی انخلا کے راستوں پر تالے لگے ہوئے تھے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں ڈاکٹرز، وارڈ بوائے یا دیگر متعلقہ عملہ موجود نہیں تھا۔ ان دعووں کی مکمل حقیقت کا تعین اب تحقیقات کے ذریعے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بدھ کی صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر پمز اسپتال کی گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکا بتائی گئی ہے۔ واقعے کے وقت نرسری میں 16 نومولود موجود تھے، جن میں سے 15 جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک نومولود کو زندہ بچا لیا گیا۔

اسپتال انتظامیہ نے واقعے کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات اور امدادی کارروائی کے دوران پیش آنے والی خامیوں کا جائزہ لے گی۔

واقعے نے ملک کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ اور نومولود بچوں کے تحفظ کے انتظامات پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

More News