پمز اسپتال نے میٹرنٹی کے نئے کیسز لینے سے انکار کردیا

پمز اسپتال نے میٹرنٹی کے نئے کیسز لینے سے انکار کردیا

اسلام آباد: پمز اسپتال انتظامیہ نے گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث میٹرنٹی کے نئے کیسز لینے سے انکار کردیا ہے۔

پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں موجودہ گنجائش سے زیادہ مریض رکھنا ممکن نہیں، اسی وجہ سے نئے میٹرنٹی کیسز لینے سے معذرت کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ آتشزدگی کے واقعے میں بچوں کی نرسری کے 15 بیڈ مکمل طور پر جل گئے ہیں۔ نرسری میں پہلے 50 بیڈ موجود تھے، تاہم واقعے کے بعد اب صرف 35 بیڈ قابلِ استعمال رہ گئے ہیں۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق مریضوں اور نومولود بچوں کے لیے متبادل انتظامات کیے جارہے ہیں اور کچھ بچوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ہسپتالوں کو اس حوالے سے خطوط بھی ارسال کیے جاچکے ہیں، جبکہ کچھ بچوں کو پولی کلینک منتقل کیا گیا ہے۔

پمز انتظامیہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں ہسپتال کی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے مریضوں کی تعداد محدود کرنا ضروری ہے تاکہ پہلے سے زیر علاج مریضوں اور نومولود بچوں کو مناسب طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

حالیہ آتشزدگی کے بعد پمز میں طبی سہولیات اور بستروں کی دستیابی ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ نرسری کے بیڈز میں کمی کے باعث انتظامیہ کو مریضوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے متبادل انتظامات کرنا پڑ رہے ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال معمول پر آنے اور ضروری سہولیات بحال ہونے تک مریضوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

More News