پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات، آلات موجود مگر مکمل فعال نہیں

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات، آلات موجود مگر مکمل فعال نہیں

لاہور: اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد پنجاب حکومت نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کا حکم دیا ہے، تاہم لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں موجود فائر فائٹنگ نظام کی فعالیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

پمز ہسپتال میں شارٹ سرکٹ کے باعث آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد پنجاب حکومت نے صوبے کے 57 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فوری طور پر واٹر ہائیڈرنٹس نصب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پنجاب میں مجموعی طور پر تقریباً 400 چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتال موجود ہیں، جن میں 50 لاہور میں قائم ہیں۔ ماضی میں بھی سرکاری ہسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات کے بعد حفاظتی اقدامات بہتر بنانے کے احکامات جاری کیے جاتے رہے ہیں، تاہم ان پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔

ترجمان اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب آغا اہتشام کے مطابق پمز واقعے کے بعد تمام سرکاری ہسپتالوں میں آگ پر قابو پانے اور دیگر حفاظتی انتظامات سات دن کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تمام اضلاع کے متعلقہ افسران کو ہسپتالوں کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب خان نیازی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں، خصوصاً نرسری اور آئی سی یو میں آگ سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ اقدامات میں سنجیدگی نہیں دکھا رہی۔

ان کے مطابق کئی ہسپتالوں میں فائر فائٹنگ آلات موجود ہونے کے باوجود ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میو ہسپتال، گنگا رام، سروسز اور جناح جیسے بڑے ہسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی کے فعال انتظامات ضرورت کے مطابق نہیں ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے لاہور کے میو ہسپتال اور گنگا رام ہسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ ہسپتالوں میں واٹر ہائیڈرنٹس اور گیس سلنڈر نصب نظر آئے، تاہم ان کی مکمل فعالیت یا مناسب دیکھ بھال کے بارے میں یقینی رائے قائم نہیں کی جاسکی۔

ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کا رش بھی موجود تھا، جس کے باعث کسی ہنگامی صورتحال میں بڑے پیمانے پر انخلا اور امدادی کارروائی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ساہیوال کے سرکاری ہسپتال میں 2024 کے دوران نرسری وارڈ میں آتشزدگی سے سات بچے جھلس گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد بھی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی اخراج کے راستے فعال بنانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر شعیب خان نیازی کے مطابق ساہیوال کے ہسپتال میں نومولود بچوں کی گنجائش سے کہیں زیادہ مریض رکھنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہسپتالوں میں صرف فائر فائٹنگ آلات نصب کرنا کافی نہیں بلکہ ان کی باقاعدہ جانچ، دیکھ بھال، عملے کی تربیت، ہنگامی اخراج کے راستوں کی دستیابی اور باقاعدہ فائر ڈرلز بھی ضروری ہیں۔

پمز سانحے کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے سات روز میں حفاظتی انتظامات مکمل کرنے کا فیصلہ اہم قرار دیا جارہا ہے، تاہم اصل امتحان ان اقدامات پر مستقل بنیادوں پر عملدرآمد اور ان کی نگرانی ہوگا۔

More News