پہلے ٹیسٹ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، خرم شہزاد اور محمد عباس پر آئی سی سی کی کارروائی
دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پاکستان کے فاسٹ باؤلرز خرم شہزاد اور محمد عباس کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ اور ڈی میرٹ پوائنٹس عائد کر دیے۔
آئی سی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق خرم شہزاد پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ محمد عباس کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر باضابطہ سرزنش (Reprimand) کی گئی۔ دونوں کھلاڑیوں کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک، ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کر دیا گیا۔
بیان کے مطابق خرم شہزاد نے ویسٹ انڈیز کے کپتان شائی ہوپ کی وکٹ لینے کے بعد جارحانہ انداز میں جشن منایا، جبکہ محمد عباس نے جومل واریکن کو آؤٹ کرنے کے بعد ایسا رویہ اختیار کیا جو آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے منافی قرار دیا گیا۔ میچ آفیشلز نے دونوں واقعات کا جائزہ لینے کے بعد ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر کارروائی کی۔
آئی سی سی کے مطابق دونوں پاکستانی فاسٹ باؤلرز نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے میچ ریفری کی جانب سے دی گئی سزا قبول کر لی، جس کے باعث اس معاملے میں باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ کرکٹ قوانین کے تحت اگر کھلاڑی مقررہ سزا قبول کر لے تو مزید کارروائی سے گریز کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب میچ کے نتائج بھی پاکستان کے لیے مایوس کن رہے۔ ویسٹ انڈیز نے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے کر سیریز کا فاتحانہ آغاز کیا۔
پاکستان کو دوسری اننگز میں کامیابی کے لیے 211 رنز کا ہدف ملا، تاہم پوری ٹیم صرف 120 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ کپتان بابر اعظم 58 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ دیگر بیٹرز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ سلمان آغا بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے، جبکہ امام الحق، شان مسعود اور اذان اویس صرف تین، تین رنز بنا سکے۔ عامر جمال اور محمد علی بھی کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہوئے، جبکہ خرم شہزاد نے 4 اور علی عثمان نے 2 رنز اسکور کیے۔
ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں 181 رنز بنائے تھے، جس میں پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے پانچ جبکہ خرم شہزاد اور محمد علی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ تاہم بیٹنگ لائن کی ناکامی کے باعث قومی ٹیم میچ اپنے نام نہ کر سکی اور سیریز کے آغاز میں ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔







