پی ٹی آئی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے، مشتاق غنی کی آڈیو لیک

پی ٹی آئی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے، مشتاق غنی کی آڈیو لیک

پشاور:عارف اکرام

پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر منظرعام پر آ گئے ہیں۔ پارٹی کے ناراض اراکین کے گروپ سے تعلق رکھنے والے سابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں انہوں نے پارٹی کے جنرل سیکرٹری کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے پر سخت ردعمل دیا ہے۔

لیک ہونے والی آڈیو میں مشتاق غنی نے جنرل سیکرٹری کے اعلامیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ناراض اراکین کے حوالے سے ہدایات نامہ جاری کرنا غیر ضروری اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن اراکین کو ناراض قرار دیا جا رہا ہے، درحقیقت وہی لوگ ہیں جنہوں نے پارٹی کے اندر موجود حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔

مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ ناراض اراکین میں سے کسی نے بھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی حکومت یا پارٹی قیادت کے خلاف کوئی نامناسب زبان استعمال کی ہے۔ ان کے مطابق ان کا مؤقف صرف یہ ہے کہ بانی چیئرمین تحریک انصاف کا نام، بیانیہ اور رہائی کا معاملہ پارٹی کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

سابق اسپیکر نے کہا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے صرف بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے آواز بلند کی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت نہ پارٹی اور نہ ہی حکومت ان کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر اور قابلِ عمل کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

انہوں نے پارٹی قیادت سے سوال کیا کہ اگر بانی چیئرمین کو جیل سے باہر لانے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود ہے تو اسے کارکنوں اور اراکین اسمبلی کے سامنے رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، صوبائی اور مرکزی قیادت سے متعدد بار بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے لائحہ عمل بنانے کی درخواست کی، مگر اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

مشتاق غنی نے کہا کہ تمام منتخب اراکین اسمبلی بانی چیئرمین تحریک انصاف کے نام پر ووٹ لے کر ایوانوں میں پہنچے ہیں، اس لیے ان کی رہائی کے لیے سنجیدہ اور منظم جدوجہد ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف اڈیالہ جیل یا عدالتوں کے باہر موجودگی سے مقاصد حاصل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے عملی اور نتیجہ خیز حکمت عملی درکار ہے۔

آڈیو میں انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ آٹھ سے نو ماہ کے دوران وقت ضائع ہوا لیکن بانی چیئرمین کی رہائی کے حوالے سے کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی۔ ان کے مطابق اس تمام عرصے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی اور بانی چیئرمین کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔

مشتاق غنی نے واضح کیا کہ ان کا مقصد پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا نہیں بلکہ بانی تحریک انصاف کی رہائی، ان سے ملاقاتوں کی بحالی اور ان کے خلاف مقدمات کی جلد سماعت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافی رائے رکھنے والوں کو دبانے کے بجائے ان کے تحفظات سننے اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مشتاق غنی کی لیک آڈیو نے تحریک انصاف کے اندر جاری اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جبکہ پارٹی کے ناراض اراکین اور قیادت کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے مؤثر سیاسی حکمت عملی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

More News

Crime

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ ایکسپلوسیو کے دہشتگردی میں استعمال کو روکنے کیلئے حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ بارودی مواد کے دہشتگردی میں استعمال کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ پشاور:سید عدنان خیبرپختونخوا

Read More »