چترال سے ڈی آئی خان تک تحریک طالبان کا کنٹرول ہے، سہیل آفریدی کہاں کے وزیراعلیٰ ہیں؟ سردار حسین بابک

چترال سے ڈی آئی خان تک تحریک طالبان کا کنٹرول ہے، سہیل آفریدی کہاں کے وزیراعلیٰ ہیں؟ سردار حسین بابک

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی رہنما سردار حسین بابک نے خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) تک مختلف علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا اثر و رسوخ موجود ہے اور صوبائی حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اپنے بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صوبے کے مختلف علاقوں میں شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کر رہے ہیں۔

اے این پی رہنما نے کہا کہ صوبے کے عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا حکومت کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم موجودہ حالات میں شہری خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی، انٹیلی جنس کی بہتری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سردار حسین بابک نے کہا کہ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، اس لیے صوبے میں امن کے قیام کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ اقدامات کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت امن و امان کی صورتحال پر واضح پالیسی اختیار کرے اور عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح بنائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر سیاسی بیانات کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق عوام امن، ترقی اور استحکام چاہتے ہیں، جبکہ حکومت کو اپنی توجہ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے عوامی مسائل کے حل اور سیکیورٹی کی بہتری پر مرکوز کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ سردار حسین بابک کے یہ ریمارکس ان کے سیاسی مؤقف اور دعووں پر مبنی ہیں۔ حکومت یا متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ان مخصوص دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

More News