چیٹ جی پی ٹی کے متن میں خفیہ سگنلز شامل کرنے کا اعلان، اے آئی سے تیار تحریر کی شناخت ممکن بنانے کی تیاری
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اہم پیش رفت سے متعلق ایک دعوے کے مطابق اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی سے تیار ہونے والے متن میں خفیہ سگنلز شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جن کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ کوئی تحریر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے یا نہیں۔
اس اقدام کا مقصد اے آئی سے تیار ہونے والے مواد کی شناخت کو آسان بنانا بتایا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران چیٹ جی پی ٹی سمیت مختلف مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ اب طلبہ، صحافی، محققین، کاروباری ادارے اور عام صارفین تحریری مواد تیار کرنے، معلومات جمع کرنے اور مختلف کاموں میں اے آئی سے مدد حاصل کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار ہونے والی تحریروں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے تعلیمی اداروں، میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے سامنے کئی سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔ ان میں یہ جاننا اہم ہے کہ کوئی مضمون، خبر یا دوسری تحریر انسان نے لکھی ہے یا اسے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
اگر تحریر میں ایسے خفیہ سگنلز شامل کرنے کی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جاتی ہے تو اس سے مواد کی شناخت کے لیے نئے طریقے سامنے آ سکتے ہیں۔ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی میں متن کے اندر مخصوص لسانی یا شماریاتی پیٹرن شامل کیے جا سکتے ہیں، جنہیں متعلقہ نظام کے ذریعے جانچا جا سکتا ہے۔
تاہم، اس طرح کے نظام کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سگنلز کتنے قابلِ اعتماد ہیں اور کیا ترجمے، تدوین یا دوبارہ لکھنے کے بعد بھی انہیں شناخت کیا جا سکتا ہے۔ کسی تحریر میں اے آئی کے استعمال کا تعین صرف ایک خودکار ٹول کی بنیاد پر کرنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔
اوپن اے آئی کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی کے متن میں خفیہ سگنلز شامل کرنے کے اس مخصوص اعلان کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید مستند معلومات درکار ہیں۔ اس لیے اسے فی الحال ایک غیر مصدقہ دعوے کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ نافذ شدہ پالیسی کے طور پر۔








