کوہاٹ میں خواتین کے معاشی مستقبل کی نئی بنیاد
تین سو ملین روپے سے زائد کی لاگت سے وومن بزنس ڈیویلپمنٹ سینٹر کا افتتاح، ہنر، کاروبار اور خودمختاری کی جانب اہم پیش رفت
کوہاٹ میں خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ایک اہم منصوبے کا آغاز کر دیا گیا۔ خیبرپختونخوا حکومت نے 338.053 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے وومن بزنس ڈیویلپمنٹ سینٹر کا افتتاح کر دیا، جس کا مقصد خواتین کو ہنر، کاروباری تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور خود روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی، صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان، چیئرمین ڈیڈک کوہاٹ و رکن صوبائی اسمبلی داؤد شاہ آفریدی، سیکرٹری بلدیات ظفر الاسلام، ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر، کاروباری شخصیات، سرکاری افسران، مقامی عمائدین اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کیے بغیر پائیدار ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے سے نہ صرف خاندانوں کی معاشی حالت بہتر ہوگی بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ وومن بزنس ڈیویلپمنٹ سینٹر میں خواتین کو کاروباری نظم و نسق، کاروبار شروع کرنے کے بنیادی اصول، ڈیجیٹل مہارتوں، فنی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق سینٹر خواتین کو تربیت کے ساتھ ساتھ کاروباری رہنمائی اور عملی مواقع بھی فراہم کرے گا، جس سے چھوٹے کاروباروں کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔
حکام کے مطابق سینٹر کے ذریعے ہر سال سینکڑوں خواتین کو کاروباری اور تکنیکی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد خواتین میں کاروباری رجحان کو فروغ دینا، انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینا ہے۔
افتتاحی تقریب کے موقع پر اربن ایریا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا گیا۔ صوبائی وزرا اور رکن صوبائی اسمبلی داؤد شاہ آفریدی نے پودے لگا کر شہری علاقوں کو سرسبز بنانے اور ماحولیاتی تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔
کوہاٹ میں وومن بزنس ڈیویلپمنٹ سینٹر کا قیام خواتین کے لیے محض ایک تربیتی مرکز نہیں بلکہ معاشی خودمختاری کی جانب ایک عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر خواتین کو تربیت کے ساتھ مارکیٹ تک رسائی، مالی معاونت اور کاروباری رہنمائی بھی مسلسل فراہم کی جائے تو یہ منصوبہ نہ صرف خواتین بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔








