گوجرانوالہ میں ٹک ٹاکر بہن کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمہ کو، والد نے معاف کر دیا

گوجرانوالہ میں ٹک ٹاکر بہن کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمہ ضمانت پر رہا

گوجرانوالہ میں ٹک ٹاک کے ویوز پر ہونے والے مبینہ جھگڑے کے بعد 15 سالہ لڑکی کے قتل کے الزام میں گرفتار اس کی 18 سالہ بڑی بہن کو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ ملزمہ کے والد نے عدالت میں پیش ہو کر اپنی بیٹی کو معاف کرنے اور مقدمے کی پیروی نہ کرنے کا بیان دیا، جس کے بعد سیشنز عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔

پولیس کے مطابق گوجرانوالہ کے علاقے لدھے والا وڑائچ میں 30 اگست کو دو بہنوں کے درمیان ٹک ٹاک پر ویوز کے معاملے پر مبینہ طور پر تلخ کلامی ہوئی۔ اہلخانہ کے مطابق معمولی تنازع شدت اختیار کر گیا اور بڑی بہن نے مبینہ طور پر اپنی 15 سالہ بہن زوبیہ مناہل پر تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا۔

حملے کے نتیجے میں زوبیہ شدید زخمی ہوئیں اور بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ واقعے کے بعد پولیس نے مقتولہ کے والد عبدالشکور خان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا اور قتل کے الزام میں 18 سالہ بڑی بہن کو گرفتار کر لیا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزمہ سے مبینہ طور پر آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا تھا۔ لدھے والا وڑائچ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او محمد افضل نے واقعے کے بعد بتایا تھا کہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے اور شواہد کی روشنی میں کارروائی جاری ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق مقدمے کے مدعی عبدالشکور خان پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور ہیں۔ ان کے خاندان میں چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ مقتولہ زوبیہ مناہل کی عمر 15 سال جبکہ ملزمہ کی عمر 18 سال بتائی گئی ہے۔

واقعے کے بعد ملزمہ کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ تقریباً آٹھ روز تک قید رہیں۔ تاہم پیر کے روز کیس میں اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ملزمہ کے والدین عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت میں والد نے موقف اختیار کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو معاف کرتے ہیں اور مقدمے کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ والد کی جانب سے معافی اور مقدمے کی پیروی سے دستبرداری کے بیان کے بعد ملزمہ کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی۔

سیشنز عدالت نے درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزمہ کو 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالتی حکم کے بعد ملزمہ کو جیل سے رہائی مل گئی۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور خاص طور پر کم عمر افراد میں ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر ویوز، فالوورز اور مقبولیت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک معمولی نوعیت کے مبینہ تنازع نے انتہائی افسوسناک صورت اختیار کی اور ایک کم عمر لڑکی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

واقعے نے نہ صرف مقامی سطح پر تشویش پیدا کی بلکہ سوشل میڈیا کے استعمال کے دوران نوجوانوں میں برداشت، غصے پر قابو اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا ہے۔

پولیس کی جانب سے واقعے کی تفتیش اور مقدمے کے قانونی مراحل کے بعد عدالت نے والد کی جانب سے معافی کے بیان کی روشنی میں ملزمہ کی ضمانت منظور کی۔ تاہم واقعے کے دیگر قانونی پہلوؤں کا فیصلہ عدالت کے سامنے موجود ریکارڈ اور قابلِ اطلاق قانون کے مطابق ہوگا۔

گوجرانوالہ کا یہ افسوسناک واقعہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ سوشل میڈیا سے جڑے معمولی تنازعات بعض اوقات انتہائی سنگین نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نوجوانوں اور والدین دونوں کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے دوران پیدا ہونے والے اختلافات کو بروقت اور تحمل کے ساتھ حل کیا جائے تاکہ معمولی تنازعات کسی بڑے سانحے میں تبدیل نہ ہوں

More News